.

ایردوآن کو کامیاب اور انقلاب کو ناکام کس نے کیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں جمعے کے روز فوجی انقلاب کی خبریں گردش میں رہیں اور ایسے میں تمام تر نظریں صدر رجب طیب ایردوآن پر تھیں کہ وہ سرکاری ٹیلی وژن پر نمودار ہو کر خطاب کریں گے۔ بہر کیف وہ ایپل کمپنی کی تیار کردہ رابطے کی ایک خصوصی ایپلی کیشن "فیس ٹائم" کے ذریعے ہی ترک عوام سے مخاطب ہونے میں کامیاب ہوسکے۔ اس پر سوشل میڈیا کے حلقوں کا کہنا ہے کہ "فيس ٹائم" نے ہی ایردوآن کو بچا لیا۔

ترک صدر نے مذکورہ ایپلی کیشن کے ذریعے "سی این این " ترکی کو بتایا کہ یہ کارروائی "متوازی وجود" کی جانب سے کی گئی اور اس کا جواب لازمی طور پر دیا جائے گا۔ ایردوآن نے اس سے پہلے یہ اصطلاح امریکا میں مقیم مسلم مذہبی شخصیت فتح الله گولن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استعمال کی تھی۔ ایردوآن کی جانب سے گولن پر گڑبڑ پھیلانے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

ایردوآن نے جمعہ کی شب عوام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سڑکوں اور میدانوں میں نکل کر جمع ہوجائیں تاکہ جو کچھ ہوا اس کو روکا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ " میں ترک عوام کو میدانوں اور ہوائی اڈوں پر جمع ہونے پر زور دے رہا ہوں اس لیے کہ میں اعلی حکام پر عوام کی طاقت اور اختیار سے زیادہ یقین نہیں رکھتا ہوں"۔

"فیس ٹائم" ایپلی کیشن کے ذریعے ایردوآن کے "سی این این" ترکی چینل پر نمودار ہونے سے ان کے حامیوں میں باہر نکلنے اور ان فوجی یونٹوں کو قابو کرنے کا جذبہ پیدا ہوگیا جنہوں نے ایردوآن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی۔

"فیس ٹائم" ایپل کمپنی کی جانب سے اپنے صارفین کے لیے فراہم کردہ نمایاں ترین ایپلی کیشنز میں شمار ہوتی ہے۔