باغیوں کا ٹرائل، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں: ایردوآن

امریکا سے فتح اللہ گولن کی ترکی حوالگی کامطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترک کے صدر رجب طیب ایردوآن نے ہفتے کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ منتخب اور آئینی حکومت کا دھڑن تختہ کرنے اور جمہوریت پر شب خون مارنے والے باغی عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ملک کو ایسے عناصر سے پاک کرے ہوئے انہیں ان کے گھروں اور خفیہ پناہ گاہوں سے ڈھونڈ کر نکالا جائے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ باغیوں کے خلاف کارروائی آئین اور قانون کے دائرے کے اندر ہو گی کسی شخص کو اپنے طور پر باغیوں کے ٹرائل اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق استنبول میں کیسکلی کے مقام پر اپنے حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوآن نے کہا کہ کسی گروپ کو ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے یا متوازی حکومت چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ترکی ایک ہی ملک ہے اور اسے تقسیم کرنے کی ہر سازش کو پوری قوت سے کچلا جائے گا۔ انہوں نے عوام کویقین دلایا ملک موجودہ بحران سے جلد ہی نکل آئے گا۔

اس موقع پر صدر کے حامیوں نے باغیوں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا تو صدر نے کہا کہ اس طرح کے امور کا فیصلہ پارلیمنٹ میں زیربحث آئے گا۔

صدر ایردوآن نے کہا کہ منتخب حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والا فوج کا ایک چھوٹا سا گروہ ہے۔ اس موقع پر صدر ایردوآن پرسکون دکھائی دے رہے تھے اور ن کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ وہ انگلیوں سے اپنے حامیوں کے سامنے فتح کا نشان بھی بنا رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری فوج فوج ہی ہے کسی متوازی حکومتی ڈھانچے کا آلہ کار نہیں۔ میں مسلح افواج کا سپریم کمانڈر ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ امریکا میں بیٹھے فتح اللہ گولن جیسے لوگ ماضی میں بھی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کی سازشوں کو ہوا دینے کی ناکام کوششیں کرتے رہے ہیں اور اب بھی ایسا کر رہے ہیں۔

انہوں نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ فتح اللہ گولن کو ترک حکومت کے حوالے کرے تاکہ جمعہ کے روز حکومت کے خلاف کی جانے والی بغاوت کے حوالے سے ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔

یاد رہے کہ صدر ایردوآن اور دیگر حکومتی عہدیداروں کی جانب سے جلا وطن لیڈر فتح اللہ گولن پرانقرہ حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا الزام عاید کیا گیا ہے تاہم مسٹر گولن اور ان کی جماعت نے حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی مذمت کرتے ہوئے اس میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں