بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں اخبارات کی اشاعت کی عارضی بندش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کے زیرانتظام مقبوضہ ریاست کشمیر کی حکومت نے اخبارات کی اشاعت پر عارضی طور پر پابندی لگادی ہے اور ان کے چھاپا خانوں کو بھی بند کردیا ہے۔

ریاستی حکومت نے یہ اقدام کشمیر میں حریت پسند جماعت حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر برہان وانی کی بھارتی فورسز کی ایک کارروائی میں شہادت کے خلاف جاری پرتشدد مظاہروں پر قابو پانے کے لیے کیا ہے۔حکام نے پہلے ہی ریاست کے بیشتر شہروں اور قصبوں میں کرفیو نافذ کررکھا ہے اور انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز بھی معطل ہیں۔

ریاستی حکومت کے ترجمان اور وزیر تعلیم نعیم اختر نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد لوگوں کی زندگیاں بچایا اور امن کوششوں کو تقویت بہم پہنچانا ہے۔مطبوعہ اشاعت پر پابندی کے باوجود بیشتر انگریزی روزناموں نے اپنی ویب سائٹس پر خبریں اپ لوڈ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

پولیس نے ہفتے کے روز اخبارات کے دفاتر میں چھاپا مار کارروائیاں کی تھیں،اخبارات کی ہزاروں کاپیاں ضبط کر لی تھیں اور سوموار تک ان کی اشاعت پر پابندی لگادی ہے۔پولیس نے بیسیوں اخباری کارکنان کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔

اخبارات کے مدیروں نے اس حکومتی اقدام کو میڈیا کے خلاف ایمرجنسی کا نفاذ قرار دیا ہے۔ایک انگریزی روزنامے ''دا کشمیر ریڈر'' نے اتوار کو اپنی ویب سائٹ پر اطلاع دی ہے کہ ''حکومت نے کشمیر میں مقامی میڈیا کی اشاعت پر پابندی عاید کردی ہے''۔اخبار نے اپنے قارئین پر زوردیا ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔

ہفتہ 9 جولائی سے پوری وادیِ کشمیر بھارت کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے اور پرتشدد احتجاجی مظاہروں اور جھڑپوں کے دوران ریاستی حکومت کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق چھتیس افراد مارے گئے ہیں۔ان میں پینتیس شہری اور ایک پولیس افسر ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی حکام کے مطابق اس پرتشدد احتجاجی تحریک کے دوران کم سے کم چالیس افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

کشمیریوں کی اس احتجاجی تحریک سے متاثرہ بیشتر شہروں اور قصبوں میں اتوار کو مسلسل نویں روز بھی سخت کرفیو نافذ رہا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کے حصول میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ریاستی حکومت نے اسکولوں اور کالجوں میں جاری گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی 24 جولائی تک توسیع کردی ہے۔

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں عوام پر ڈھائے جانے والے ریاستی جبر کے خلاف منگل کے روز یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم میاں نواز شریف نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی ،اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھے گا۔انھوں نے کہا کہ انھوں نے بھارتی فورسز کے ہاتھوں ستم رسیدہ کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے لیے ''یوم سیاہ'' منانے کی اپیل کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں