ترکی : ناکام فوجی بغاوت سے تعلق کے الزام میں 8777 افسر اور اہلکار معطل

تین روز میں ملک بھر سے 7500 سے زیادہ اعلیٰ فوجی اور عدالتی افسر گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی کی وزارت داخلہ نے 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت سے تعلق کے الزام میں 77 صوبائی اور ضلعی گورنروں سمیت 8777 افسروں اور اہلکاروں کو معطل کردیا ہے۔

وزارت داخلہ نے 18 جولائی کو جن عہدے داروں ،افسروں اور اہلکاروں کو معطل کیا ہے،ان میں 7899 پولیس افسر اور اہلکار ،نیم فوجی دستوں جینڈر میری کے 614 افسر ، 30 صوبائی گورنرز اور 47 ضلعی گورنرز شامل ہیں۔ان میں زیادہ تر دارالحکومت انقرہ اور سب سے بڑے شہر استنبول میں تعینات تھے۔

معطل پولیس افسروں کو گذشتہ روز صوبائی پولیس ہیڈکوارٹرز طلب کیا گیا تھا،ان سے ہتھیار اور پولیس کے شناختی کارڈ ضبط کر لیے گئے ہیں۔یہ عمل رات بھر جاری رہا تھا۔

ترک وزیراعظم بن علی یلدریم نے بتایا ہے کہ حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملو٘ث ہونے کے شُبے میں فوج کے اعلیٰ کمانڈروں اور عدالت عظمیٰ کے ججوں سمیت اب تک ساڑھے سات ہزار سے زیادہ اعلیٰ فوجی اور عدالتی افسروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے امریکا سے خود ساختہ جلاوطن مسلم دانشور فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کرنے کا مطالبہ دُہرایا ہے اور کہا ہے کہ اگر امریکی دوست ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے شخص کے خلاف ثبوت طلب کرتے ہیں تو انھیں اس پر افسوس ہوگا۔

ترک حکومت نے سرکاری اداروں سے امریکی ریاست پنسلوینیا میں مقیم فتح اللہ گولن کے حامیوں کی تطہیر کا عمل بھی شروع کررکھا ہے۔فوج ،عدلیہ اور سرکاری اداروں میں موجود ان کے حامیوں کو برطرف کیا جارہا ہے یا تفتیش کی غرض سے انھیں حراست میں لیا جارہا ہے۔ملک اعلیٰ دستوری عدالت نے اپنے دو ججوں کے خلاف گولن تحریک سے تعلق کے الزام میں تحقیقات شروع کردی ہے۔

ترکی نے وزارت خزانہ کے ڈیڑھ ہزار ملازمین کو گولن تحریک تعلق کے الزام میں برطرف کردیا ہے۔ایردوآن حکومت نے فتح اللہ گولن اور ان کی تحریک پر جمعے کی ناکام فوجی بغاوت کے تانے بانے بننے اور ملک میں ''متوازی ڈھانچا'' چلانے کا الزام عاید کیا ہے لیکن انھوں نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔

درایں اثناء حکومت نے ملک بھر میں تیس لاکھ سے زیادہ سرکاری ملازمین کی سالانہ چھٹیاں تاحکم ثانی بند کردی ہیں۔سوموار کو جاری کردہ ایک حکم نامے کے مطابق چھٹی پر گئے تمام ملازمین سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ جلد سے جلد اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہوجائیں اور اپنی منصبی ذمے داریاں سنبھال لیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں