تہران:سعودی سفارت خانے پر حملے کے مشتبہ ملزمان عدالت میں پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں سعودی عرب کے سفارتی مشنوں پر حملوں میں ملوّث نو مشتبہ افراد دارالحکومت تہران میں ایک عدالت میں پیش ہوگئے ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق مشتبہ افراد پر نقض امن اور سعودی سفارت خانے کی عمارت کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔سعودی سفارت خانے پر حملے کے الزام میں اکیس مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا اور ان میں سے بارہ سوموار کو پہلی سماعت کے موقع پر غیر حاضر رہے ہیں۔

مشتعل ایرانی مظاہرین نے جنوری میں تہران میں ایک شیعہ عالم نمر ابو نمر کا دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزام میں سرقلم کیے جانے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا اور اس دوران سعودی سفارت خانے پر حملہ کردیا تھا۔ایرانیوں نے مشہد میں سعودی قونصل خانے پر بھی دھاوا بولا تھا۔ان حملوں کے بعد سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔

ایرانی حکومت نے ان حملوں کی مذمت کی تھی اور صدر حسن روحانی نے عدلیہ سے کہا تھا کہ وہ متشدد مظاہرین کو قانون ہاتھ میں لینے پر سزائیں دے۔انھوں نے ایرانیوں سے بھی کہا تھا کہ وہ غیر ملکی سفارتی مشنوں پر حملے روک دیں۔واضح رہے کہ ایران میں 1979ء کے انقلاب کے بعد مشتعل مظاہرین امریکا سمیت غیرملکی سفارتی مشنوں پر حملے کرتے رہے ہیں اور اس وجہ سے ایران کے دوسرے ملکوں کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں۔

ایرانی مظاہرین نے 1979ء میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا اور اس کے عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔1987ء میں کویت اور 1988ء میں سعودی عرب کے سفارت خانوں پر حملے کیے گئے تھے۔ایرانی مظاہرین نے 2006ء میں ڈنمارک اور 2011ء میں برطانیہ کے سفارت خانے پر حملہ کیا تھا۔

ان حملوں میں ملوث ایرانیوں کو کوئی سزا نہیں سنائی گئی تھی۔سعودی عرب کے سفارت خانے پر حالیہ حملے کے الزام میں ایک سو باون افراد کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن انھیں بعد میں رہا کردیا گیا تھا۔

ایرانی عدلیہ نے اپریل میں یہ اعلان کیا تھا کہ سعودی سفارت خانے اور قونصل خانے پر حملے کے الزام میں ایک سو سے زیادہ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ان میں سے اڑتالیس پر فرد جرم عاید کی گئی تھی اور بعد میں ان تمام مشتبہ افراد کو ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے جون میں عدلیہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر کہا تھا کہ حملہ آوروں کی شناخت ہوگئی ہے۔انھوں نے عدالتوں پر زوردیا تھا کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کریں۔

انھوں نے کہا کہ عوام سعودی سفارت خانے پر حملے میں ملوّث ''بھوت عناصر'' کو سزائیں سنانے جانے کے منتظر ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ عدلیہ ان لوگوں سے کیسے نمٹتی ہے جنھوں نے قانون کو ہاتھ میں لے کر ایران کی قومی سلامتی کے منافی یہ حملہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں