فوجی بغاوت، ترکی میں پھانسی کی سزاؤں پربحث دوبارہ شروع

ترک صدر کا حامیوں سے جمعہ تک احتجاج جاری رکھنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوث عناصر کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچانے میں کسی قسم کی تاخیر قبول نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ بغاوت میں مجرم قرار دیے جانے والوں کو بلا تاخیر سزائے موت دی جانی چاہیے۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اپنے ایک بیان میں ترک صدر نے کہا کہ وہ بغاوت میں ملوث عناصر کی سزائے موت کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں سے بات کریں گے۔

قبل ازیں انہوں نے استنبول میں اپنے رہائش گاہ پر جمع اپنے حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کیا جس میں انہوں نے صدر سے مطالبہ کیا بغاوت میں ملوث عناصر کو پھانسی دی جائے۔ اس پر صدر نے کہا کہ ہم اس مطالبے کو نظر انداز نہیں کرتے۔ اس پر اپوزیشن سیاسی جماعتوں سے بات کی جائے گی۔

خیال رہے کہ ترکی نے سنہ 2004ء میں یورپی یونین میں شمولیت کے لیے راہ ہموار کرنے کی خاطر ملک میں سزائے موت کا قانون منسوخ کردیا تھا۔ سنہ 1984ء کے بعد ترکی میں سزائے موت کا کوئی واقعہ ریکارڈ پر موجود نہیں۔

ترک صدر ایردوآن نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ فوجی بغاوت کی سازش کے خلاف آئندہ جمعہ تک سڑکوں اور میدانوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بغاوت کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ اس لیے عوام کو احتجاج جاری رکھنا ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں