''ترکی تطہیر کے عمل کے دوران قانون کی حکمرانی کا احترام کرے''

30 گورنراور 50 اعلیٰ سرکاری افسر برطرف ،103 جرنیل اور ایڈمرلز بغاوت کے الزام میں زیر حراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

متعدد عالمی لیڈروں نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ ناکام فوجی بغاوت کے بعد تطہیر کے عمل کے دوران قانون کی حکمرانی کا احترام کریں۔ترک حکومت نے اقتدار پر قبضے کی سازش میں ملوّث ہونے کے الزام میں فوج ،پولیس اور دوسرے محکموں کے اہلکاروں اور افسروں کی برطرفیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اب تک ہزاروں سرکاری عہدے داروں کو فارغ خطی دی جاچکی ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی نے سوموار کے روز امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''ملک (ترکی) کو بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی سے دور لے جانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔اس معاملے میں ہم کڑی نگرانی کریں گے''۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ''ترکی کو اپنے جمہوری اداروں اور قانون کی حکمرانی کے اعلیٰ معیارات کو برقرار رکھنا چاہیے''۔انھوں نے حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوث اہلکاروں کو پکڑنے کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ ہم اس سے ماورا اقدامات پر انتباہ کرتے ہیں۔

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے اور اس کے بعد ایک بیان میں ترکی پر زوردیا ہے کہ وہ ناکام فوجی بغاوت کے بعد اتحاد کے کسی بھی دوسرے ملک کی طرح قانون کی حکمرانی اور جمہوریت ،جمہوری اداروں ،آئین اور بنیادی آزادیوں کا مکمل احترام کرے۔

جرمن چانسلر اینجیلا میرکل نے صدر ایردوآن پر واضح کیا ہے کہ ان کا ملک ترکی میں پھانسی کی سزا کی بحالی کا شدید مخالف ہے۔جرمن حکومت کی ایک خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ ترک صدر فوجی بغاوت کی سازش کے ذمے داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے سزائے موت کی بحالی کے خواہاں ہے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو ترکی یورپی یونین کا رکن نہیں بن سکے گا۔

بیان کے مطابق:'' چانسلر نے صدر پر زوردیا ہے کہ وہ ناکام بغاوت کے جواب میں ترکی کے ریاستی ردعمل میں تناسب کے اصولوں اور قانون کی حکمرانی کا احترام کریں کیونکہ ترکی میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور برطرفیاں شدید تشویش کا باعث ہیں''۔

برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے پارلیمان (دارالعوام) میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ''وہ بہت جلد صدر ایردوآن سے بات کرنے کی خواہاں ہیں۔ہم ترکی کے آئین کی مکمل پاسداری کا مطالبہ کرتے ہیں اوروہاں قانون کی حکمرانی برقرار رہنی چاہیے''۔

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے سرکاری اداروں میں تطہیر کا عمل جاری ہے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوّث ہونے کے الزام میں اعلیٰ افسروں اور عہدے داروں کو برطرف کیا جارہا ہے۔حکومت نے سوموار کے روز تیس گورنروں اور پچاس سے زیادہ اعلیٰ سرکاری ملازمین کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔

سی این این ترک کی رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں میں تطہیر کے عمل کے تحت اب تک 8777 پولیس اہلکاروں کو فارغ خطی دی جاچکی ہے۔ان کے علاوہ تین ہزار ججوں اور پراسیکیوٹرز کو بھی گھروں کو بھیج دیا گیا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق ایک سو تین جرنیلوں اور ایڈمرلز کو حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوّث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔اب انھیں عدالتوں میں پیش کیا جارہا ہے اورتفتیش کی غرض سے پولیس تحویل میں رکھنے کے لیے ریمانڈ حاصل کیے جارہے ہیں۔

ترک حکومت نے وزارت خزانہ کے ڈیڑھ ہزار ملازمین کو امریکا میں مقیم دانشور فتح اللہ گولن اور ان کے حامیوں سے تعلق کے الزام میں برطرف کردیا ہے۔ایردوآن حکومت نے فتح اللہ گولن پر جمعے کی ناکام فوجی بغاوت کے تانے بانے بننے کا الزام عاید کیا ہے لیکن انھوں نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں