.

ایران : سعودی سفارت خانہ حملہ کیس ، ملزمان کے "مضحکہ خیز" بیانات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تہران میں سعودی سفارت خانے پر دھاوا بولنے والوں کے خلاف عدالتی کارروائی کی پیروی کرنے والوں نے دوران سماعت ملزمان کے بیانات کی تفصیلات کے "مضحکہ خیز" مناظر کے پیش نظر ، اس کو "بناوٹی" قرار دیا ہے۔

پیر اور منگل کے روز ہونے والی عدالتی کارروائی کو نقل کرنے والی نیوز ایجنسی "ISNA" کے مطابق حملے کا پہلا ملزم 25 سالہ نوجوان ہے اور وہ کپڑوں کی فروخت کا کام کرتا ہے۔ اس نے سفارت خانے پر حملے اور اس کو آگ لگانے کی کارروائی میں ملوث ہونے کا انکار کرتے ہوئے بتایا کہ "میں تو غزہ کے رہنے والوں کے لیے سعودی سفارت خانے کے سامنے مظاہرے کے لیے گیا تھا کیوں کہ اہل غزہ میں اکثریت شیعوں کی ہے"۔

ملزم نے بتایا کہ "پاسداران انقلاب کے زیرانتظام میڈیا میں ایک ٹیکسٹ میسج پھیلایا گیا جس میں منی حادثے کے بعد سعودی سفارت خانے کو نشانہ بنانے پر اکسایا گیا تھا۔ 24 ستمبر کو منی میں پیش آنے والی بھگدڑ میں سیکڑوں ایرانی عازمین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اسی طرح نمر النمر کی پھانسی کے علاوہ یمن میں جاری جنگ، شام میں مداخلت اور غزہ میں شیعہ اکثریتی مظلوم فلسطینیوں کی نصرت کی خاطر میرے اندر سعودی سفارت خانے کے سامنے احتجاج کے لیے جانے کا جذبہ پیدا ہوا"۔

دوسرے ملزم کا کہنا تھا کہ وہ دوائیں خریدنے کے لیے جارہا تھا۔ راستے میں اس نے لوگوں کو سعودی سفارت خانے کی طرف دوڑ لگاتے دیکھا۔ وہ جیسے ہی گاڑی سے اترا تو اس کو گرفتار کرلیا گیا اور بنا کسی قصور کے 20 روز تک حراست میں رکھا گیا"۔

ادھر 19 سالہ تیسرے ملزم نے بتایا کہ وہ چیزیں فروخت کرتا ہے۔ وہ سعودی سفارت خانے کے سامنے گیا اور سعودی عرب کے خلاف نعرے بازی کی اور ساتھ ہی سفارت خانے کی عمارت پر دوسرے لوگوں کے ساتھ پتھراؤ کیا۔ ملزم نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "انقلابی نوجوانوں کو ہنگامہ آرائی اور بلوے کا مورود الزام ٹھہرانا زیادتی ہے بلکہ پولیس پر لازم تھا کہ وہ مداخلت کرتی"۔

چوتھا ملزم جو ایک ٹیچر ہے، اس کا کہنا تھا کہ سفارت خانے کی پہلی اور دوسری منزل جس وقت جل رہی تھی تو فائربریگیڈ نے کچھ نہیں کیا۔ ملزم کے مطابق "میں آگ میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کے لیے عمارت میں داخل ہوا اور مجھے ہرگز معلوم نہ تھا کہ یہ مجمع غیر قانونی ہے۔ اس لیے کہ ایک روز قبل مشہد میں بھی سعودی قونصل خانے پر دھاوے کے وقت اسی طرح ہوا تھا اور حکام نے کچھ نہیں کیا"۔

پانچواں ملزم جس کی عمر 21 برس ہے، اس نے بتایا کہ وہ مجمع کے ساتھ موجود تھا مگر اس نے کوئی پتھر نہیں پھینکا اور نہ ہی سفارت خانے میں داخل ہوا۔ تاہم اس نے بتایا کہ "بعض لوگوں نے پیٹرول بم اور آتش گیز شیشوں کو استعمال کرتے ہوئے سفارت خانے میں آگ لگانے کی کوشش میں حصہ لیا۔

عدالت کے سربراہ نے چھٹے ملزم کے بارے میں بتایا کہ وہ دھاوے کی کارروائی کی منصوبہ بندی کرنے والے عناصر میں شامل ہے۔ تاہم اس کے پیش نہ ہونے کے سبب اس کی غیر حاضری میں عدالتی کارروائی کی گئی۔ مذکورہ ملزم کی وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ ان کا مؤکل "اہل بیت کے مقامات کے دفاع کے لیے شام گیا ہوا ہے اور عدالت کی جانب سے اس کو بری کرنے کا حکم جاری کیا جانا چاہیے۔ اس لیے کہ اس نے اور دیگر انقلابی نوجوانوں نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ سعودی عرب کو ایک سبق سکھانے کا ارادہ کیا"۔

جہاں تک دیگر ملزمان کا تعلق ہے تو ان سب نے کسی نہ کسی حجت کو بنیاد بنا کر حملے میں اپنی شرکت سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور دھاوے میں ملوث ہونے کے حوالے سے اپنے خلاف تمام تر الزامات کو مسترد کردیا۔

عدالت کے جج کے بیان کے مطابق سفارت خانے کی تمام تر املاک کو جلا دیا گیا۔ اس کے علاوہ سفارت خانے کے زیرانتظام 5 گاڑیوں کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔

نیوز ایجنسی "ISNA" کے مطابق سعودی سفارت خانے پر دھاوے کے مجموعی 21 ملزمان میں سے 14 ملزمان نے عدالی کارروائی کے پہلے روز اپنا دفاع کیا۔ عدالتی کارروائی کا انعقاد بیرسٹر فرشید دہقانی کی سربراہی میں ہوا جب کہ دیگر ملزمان کو منگل کی صبح عدالت میں پیش کیا گیا۔

مقدمے کے جج کے مطابق ان ملزمان کے خلاف فیصلہ آئندہ دس روز کے اندر جاری کیا جائے گا۔ ان کے علاوہ سی مقدمے میں 23 سے 24 دیگر ملزمان بھی ہیں جن کے خلاف عدالتی کارروائی مستقبل میں ہوگی۔

دوسری جانب ایرانی عدلیہ کے زیرانتظام "ميزان" ایجنسی نے ایرانی اٹارنی جنرل کے حوالے سے بتایا ہے کہ "متعدد مذہبی شخصیات پر سعودی سفارت خانے پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام ہے جن کے خلاف عدالتی کارروائی عنقریب مذہبی شخصیات سے متعلق خصوصی عدالت میں ہوگی"۔

مبصرین کے نزدیک اس بناوٹی اور مصنوعی سی عدالتی کارروائی نے ثابت کردیا کہ ایرانی حکام ابھی تک سفارت خانے پر دھاوا بولنے والے مرکزی حملہ آوروں کو چھپا رہی ہے۔ اس لیے کہ ان افراد کا تعلق ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے قریب سمجھے جانے والے پریشر گروپوں سے ہے۔ اس بات کا انکشاف کچھ عرصہ قبل باخبر ایرانی ذرائع کی جانب سے کیا گیا تھا۔ ایرانی باخبر ذرائع نے اصلاح پسند رہ نما مہدی کروبی کے نزدیک شمار کی جانے والی ویب سائٹ "سحام نيوز" کو انکشاف کیا تھا کہ سفارت خانے پر دھوا بولنے والوں کا تعلق ایران میں " ایرانی حزب الله" کے نام سے جانی جانے والی ملیشیاؤں سے ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ہی حملے کے بنیادی کردار ہیں۔ واقعے کے روز ایک گروپ تہران کے شمال مشرق میں واقع "مهتدی شہید مرکز" ("شهيد محلّاتي" فوجی علاقے میں پاسداران انقلاب کا ایک صدر دفتر) سے سفارت خانے پر حملے، اس کو نذر آتش کرنے اور سامان کو لوٹنے کے مشن پر نکلا۔ یہ چیز ایرانی مرشد اعلیٰ اور حکومت کے دعوؤں کو غلط ثابت کرتی ہے جو حملے کے سلسلے میں "قانون کی دسترس سے باہر" یا "خفیہ طور پر درانداز" عناصر کو ملامت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

"سحام نيوز" کے مطابق حملہ آور گروپ میں شامل ایک شخص نے بتایا ہے کہ "باسیج فورس کے ارکان سعودی سفارت خانے پر حملے کے لیے فورس کے ایک صدر دفتر میں جمع ہوئے.. وہاں سے انہیں کارروائی پر عمل درامد کے لیے بھیجا گیا۔ ان افراد کے پاس دستی اور پیٹرول بموں کو فائر کرنے کے لیے خصوصی ہتھیار بھی تھے جن کے ذریعے سفارت خانے کی عمارت میں آگ لگا دی گئی"۔

اسی ذریعے کے مطابق "باسیج فورس کے حملہ آور ارکان نے سفارت خانے کا سامان لوٹ کر عمارت کے باہر پہنچا دیا. اگرچہ سفارت خانے کا عملہ اہم دستاویزات کو اپنے ساتھ باہر لے آیا تھا جب کہ کم اہم کاغذات کو عمارت میں ہی چھوڑ دیا گیا. باسیج کے ارکان عمارت کے اندر سے کمپیوٹر، لیپ ٹاپس، موبائل فون اور دیگر انتظامی امور کی اشیاء لے کر مال غنیمت کے طور پر اپنے گھروں کو لے گئے"۔