.

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پُرتشدد احتجاج جاری ،مزید تین افراد شہید

بھارتی فوجیوں نے سڑک بند کرکے احتجاج کرنے والے کشمیری مردوں اور خواتین پر گولیاں چلادیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے زیر انتظام ریاست جموں وکشمیر میں کرفیو کے نفاذ کے باوجود صورت حال معمول پر نہیں آسکی ہے اور کشمیری عوام نے بھارت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔بھارتی فوجیوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک شاہراہ کو بند کرکے احتجاج کرنے والے کشمیریوں پر فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں مزید تین کشمیری شہید ہوگئے ہیں۔

کشمیر میں پولیس کے ایک ترجمان نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ''بعض شرپسندوں نے احتجاج کے دوران فوج سے ہتھیار چھیننے اور گاڑیوں کو نذرآتش کرنے کی کوشش کی تھی۔اس کے بعد فوجیوں نے انتباہوں کو نظرانداز کرنے والے کشمیریوں پر فائرنگ کردی جس سے دو عورتیں موقع پر ماری گئی ہیں اور ایک شخص اسپتال میں دم توڑ گیا ہے''۔

پوری وادیِ کشمیر میں گذشتہ گیارہ روز سے حریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے نوجوان کمانڈر برہان وانی کی بھارتی فورسز کی ایک کارروائی میں شہادت کےخلاف پُرتشدد احتجاج جاری ہے اور بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور جھڑپوں کے دوران بیالیس افراد مارے گئے ہیں۔ان میں اکتالیس شہری اور ایک پولیس افسر ہے۔

قابض حکام کی چیرہ دستیوں کے خلاف احتجاج کے دوران جھڑپوں،اشک آور گیس کے گولے لگنے اور فائرنگ سے ساڑھے تین ہزار کے لگ بھگ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ان میں سے بہت سے افراد کی آنکھیں بھارتی فورسز کی غیرمہلک ہتھیاروں سے چلائی گئی گولیوں سے متاثر ہوئی ہیں اور بھارتی فورسز نے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والوں کو اسپتالوں سے گرفتار کر لیا ہے جس کی وجہ سے کشمیریوں کے بھارت کے خلاف غیظ وغضب میں اضافہ ہوا ہے۔

بھارت کی حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جموں وکشمیر میں ایک علاقائی جماعت کے ساتھ مل کر حکومت بنائی ہوئی ہے لیکن وہ کشمیریوں کے تحفظات کو دور کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس کو بھارت میں کشمیریوں کے خلاف ریاستی طاقت کے بے مہابا استعمال پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

درایں اثناء کشمیر کے کثیرالاشاعت اخبار ''گریٹر کشمیر'' کے پبلشر عبدالرشید مخدومی نے بتایا ہے کہ انھیں حکام نے اپنے اخبار کی اشاعت دوبارہ شروع کرنے کے لیے کہا ہے۔ریاستی حکومت نے خطے میں قیام امن کے نام پر کشمیر سے شائع ہونے والے تمام اخبارات کی اشاعت پر تین روز پہلے پابندی عاید کردی تھی۔انھوں نے کہا کہ وہ دوسرے پبلشروں سے ملاقات کررہے ہیں اور اس میں کرفیو کے سائے تلے اخبارات دوبارہ چھاپنے یا نہ چھاپنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی حکومت نے اختتام ہفتہ پراخبارات کی اشاعت پر عارضی طور پر پابندی لگادی تھی اور ان کے چھاپا خانوں کو بھی بند کردیا تھا۔ریاستی حکومت نے یہ اقدام برہان وانی کی شہادت کے خلاف جاری پرتشدد مظاہروں پر قابو پانے کے نام پر کیا تھا۔حکام نے پہلے ہی ریاست کے بیشتر شہروں اور قصبوں میں کرفیو نافذ کررکھا ہے اور انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز بھی معطل ہیں۔