.

'ترکی: انقلاب سے کئی گھنٹے قبل انٹیلی جنس کو معلومات مل چکی تھیں'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی انٹیلی جنس کو انقلاب کی کوشش سے کئی گھنٹے قبل ہی اس منصوبے کا علم ہوچکا تھا۔ اس امر نے انقلاب کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درامد کرنے والوں کو مجبور کردیا کہ وہ رواں ماہ کی پندہ تاریخ کو اس کا وقت صبح تین بجے سے آگے بڑھا کر رات نو بجے کر دیں۔

اناضول نیوز ایجنسی کے مطابق ترکی کی انٹیلی جنس کے سربراہ نے جنرل اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین کے ساتھ ایک خفیہ اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کا انعقاد انٹیلی جنس ادارے کی جانب سے اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد عمل میں آیا کہ اس طرح کی یقینی معلومات ہیں کہ ترکی میں اسی روز انقلاب لانے کا ارادہ کرلیا گیا ہے جس روز حقیقتا اس کی کوشش کی گئی۔

ایجنسی نے باور کرایا کہ انٹیلی جنس ادارہ انقلاب کے حوالے سے چوکنا تھا اور اس نے 15 جولائی کو گرینوچ کے وقت کے مطابق ایک بجے دن متعلقہ ترک حکام کو اس سے آگاہ کردیا تھا۔

اناضول ایجنسی نے مزید بتایا کہ گرینوچ کے وقت کے مطابق ڈھائی بجے انٹیلجنس کے نائب سربراہ کو جنرل اسٹاف کمیٹی کے صدر دفتر کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا تاکہ وہ انقلاب کے بارے میں موصولہ اطلاعات کی تفصیلات فراہم کرسکیں۔

گرینوچ کے مطابق تین بجے ترکی کی انٹیلی جنس کے سربراہ خود اسٹاف کمیٹی سے ملاقات کے لیے گئے تاکہ انقلاب کو ناکام بنانے کے اقدامات کو زیربحث لایا جاسکے۔

گرینوچ کے وقت کے مطابق ساڑھے تین بجے فوج کے تمام سیکٹروں کو سلسلہ وار احکامات دیے جاچکے تھے۔ ان میں فضائی حدود کو ہوابازی کی حرکت کے لیے مکمل طور پر بند کردینا، فوجی طیاروں کو اڑان بھرنے سے ہر طریقے سے روکا جانا اور فوجی ٹینکوں اور یونٹوں کو حرکت میں آنے سے روک دینا شامل ہیں۔

نیوز ایجنسی کے مطابق انقلابی عناصر اپنے منصوبے کے اِفشا ہوجانے پر، تختہ الٹنے کی کارروائی کو آگے بڑھا دینے پر مجبور ہوگئے۔ انہوں نے مقامی وقت کے مطابق صبح تین بجے کی جانے والی کارروائی کو رات نو بجے تک کے لیے مؤخر کر دیا۔

واضح رہے کہ بہت سے عسکری تجزیہ کاروں کے نزدیک حکام کے سامنے انکشاف ہوجانے کے بعد انقلاب کے وقت کو تبدیل کرنا، تختہ الٹے جانے کی اس کارروائی کو ناکامی سے دوچار کرنے کی ایک اہم وجہ ہے۔