.

روسی طیارہ مارگرانے والے دونوں ترک پائیلٹ فوجی بغاوت سے تعلق پر زیرحراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ سال نومبر میں شام کی سرحد کے نزدیک روس کا لڑاکا طیارہ مارگرانے والے دونوں ترک پائیلٹوں کو بھی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں شریک ہونے کے شُبے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ترکی کے دو ایف سولہ لڑاکا جیٹ نے 24 نومبر 2015ء کو شام کی سرحد کے نزدیک روس کا ایس یو 24 جنگی طیارہ مار گرایا تھا۔ایک ترک عہدے دار نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس آپریشن میں حصہ لینے والے دونوں پائیلٹ اس وقت زیر حراست ہیں اور انھیں حکومت کے خلاف فوجی بغاوت سےتعلق کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

شام کی سرحد کے نزدیک لڑاکا طیارے کی تباہی کے بعد کے بعد روس اور ترکی کے درمیان سخت کشیدگی پیدا ہوگئی تھی اور روس نے ترکی کے ساتھ سیاسی،سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔دونوں ملکوں نے گذشتہ ماہ ہی دوطرفہ تعلقات بحال کیے ہیں۔

روسی صدر ولادی میر پوتین نے اتوار کو اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن سے فون پر بات کی تھی اور ان کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کو ناقابل قبول قرار دیا تھا۔انھوں نے ترکی میں جلد استحکام کی بحالی کی امید کا اظہار کیا تھا۔توقع ہے کہ دونوں لیڈر اگست میں ملاقات کریں گے اور یہ ان کے درمیان سفارتی کشیدگی کے خاتمے کےبعد پہلی بالمشافہ ملاقات ہوگی۔