.

روس کے S-300 دفاعی نظام کا "میزائل حصہ" ایران کے حوالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی نیوز ایجنسی "تسنيم" کے مطابق روس نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے S-300 دفاعی نظام کا میزائل حصہ ایران کے حوالے کر دیا ہے۔ ماسکو رواں سال کے آخر تک اس میزائل نظام کے تمام حصے تہران کے حوالے کر دے گا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے نزدیک شمار کی جانے والی نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ " S-300 دفاعی نظام کے میزائلوں کی پہلی کھیپ حال ہی میں ایران میں داخل ہوئی جو ایران کی جانب سے اپنے فضائی دفاع کو اس نظام سے لیس کرنے کا عزم واضح کرتا ہے"۔

روس کی جانب سے ایران کو اس نظام کی فراہمی پر آمادگی نے اسرائیل کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اس لیے کہ ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اس کا نظام کے حصول کا مقصد اسرائیل کو تباہ کرنا ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ اس نے 2010 میں مغرب کے دباؤ میں آ کر ایران کو مذکورہ دفاعی نظام کی فراہمی کا معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔

روسی صدر ولادیمر پوتن نے اپریل 2015 میں اس عائد پابندی کو اٹھا لیا تھا۔ یہ اقدام ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق حتمی معاہدے سے قبل طے پانے والی عارضی ڈیل کے بعد کیا گیا تھا۔

روس نے S-300 نظام کے ابتدائی حصے یعنی میزائل ٹیوب اور ریڈار آلات اپریل میں ایران کے حوالے کیے تھے۔