اسرائیل: رکن پارلیمنٹ کے اخراج سے متعلق متنازع قانون کا بل منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی پارلیمنٹ نے بدھ کے روز ارکان پارلیمنٹ کے اخراج کے حوالے سے متنازع قانون کا بل منظور کرلیا جس کے ذریعے پہلے عرب ارکان کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

ہنگامہ آرائی سے بھرپور اجلاس میں بائیں بازو کی اپوزیشن اور عرب ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے بل کے متن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "نسل پرستی" پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔

رائے شماری میں پارلیمنٹ کے کُل 120 ارکان میں سے 62 نے بل کے حق میں اور 47 نے اس کے خلاف ووٹ دیا جب کہ بقیہ ارکان اجلاس میں حاضر نہیں ہوئے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو نے رواں سال کے آغاز پر اس بل کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ اس سے قبل اسرائیلی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے تین عرب ارکان نے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل کر دیے جانے والے فلسطینیوں کے عزیزوں سے ملاقات کی تھی جس کے نتیجے میں ایک بڑا تنازع کھڑا ہوگیا۔

مذکورہ ارکان پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ وہ صرف اس کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے تھے جو فلسطینی مقتولین کی لاشوں کو ان کے گھر والوں کو لوٹانے کا مطالبہ کررہی تھی۔

پارلیمنٹ میں منظور کیا جانے والا قانونی بل "نسل پرستی پر اکسانے یا اسرائیلی ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کی سپورٹ کرنے والے" ارکان کو نشانہ بناتا ہے۔ نئے قانون کے مطابق کسی بھی رکن کے اخراج کے لیے پارلیمنٹ کے مجموعی 120 ارکان میں سے کم از کم 90 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔

فلسطینی مقتولین کے عزیزوں سے ملاقات کرنے والے دو مرد اور ایک خاتون رکن پارلیمنٹ کو دو سے چار ماہ تک کے لیے پارلیمنٹ اور ذیلی کمیٹیوں کے مباحثے میں شریک ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں