بھارت : کشمیر کے ''غلط'' نقشے پر اسکول پرنسپل کے خلاف بغاوت کا مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت میں ایک اسکول کے پرنسپل سمیت تین افراد کے خلاف متنازعہ ریاست کشمیر کا ''غلط'' نقشہ چھاپنے پر بغاوت کا مقدمہ قائم کردیا گیا ہے اور پولیس نے ان پر بغاوت کے جرم میں فرد الزام عاید کردی ہے۔اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا موت ہے۔

وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس نے دائیں بازو کے ایک ہندو کارکن کی شکایت پر اسکول کے پرنسپل ،مالک اور ایک چھاپا خانے کے مالک کو سوموار کے روز گرفتار کیا تھا۔انھوں نے مبیّنہ طور پر اسکول کی ڈائریوں میں یہ ''غلط'' نقشہ شائع کیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ریاست کے ضلع شاہ دول مں واقع گرین بیلز پبلک اسکول نے سیکڑوں ڈائریاں چھپوائی ہیں اور ان میں کشمیر کو پاکستان اور چین کی سرحدوں کے اندر دکھایا گیا ہے۔

ضلع شاہ دول کے سینیر پولیس افسر ستیش ڈویڈی کا کہنا ہے کہ ان تینوں افراد کے خلاف بغاوت اور قومی مفاد کے منافی سرگرمی میں ملوّث ہونے کے الزام میں فرد الزام عاید کی گئی ہے۔

منگل کے روز ایک عدالت نے ان تینوں کی درخواست برائے ضمانت مسترد کردی تھی۔انھوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ نقشہ غلطی سے شائع ہوگیا تھا۔اگر وہ قصور وار پائے جاتے ہیں تو انھیں پھر بغاوت کے متنازعہ قانون کے تحت عمرقید کی سزا ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ نقشے بھارت میں بہت ہی حساس ایشو ہیں۔ بھارتی حکومت نے نقشوں کی اشاعت سے متعلق سخت ہدایات جاری کررکھی ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ تمام کشمیر کو بھارت کی سرحدوں کے اندر دکھایا جانا چاہیے۔

بھارت کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات چل رہے ہیں اور ان میں سب سے نمایاں پاکستان کے ساتھ ریاست جموں وکشمیر کا تنازعہ ہے۔بھارت نے 1947ء میں مسلم اکثریتی اور ہندو اکثریتی علاقوں کی تقسیم کے لیے طے شدہ اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست کشمیر کے ایک حصے پر غاصبانہ قبضہ کر لیا تھا اور وہاں استصواب رائے نہیں ہونے دیا تھا۔

کشمیر کا ایک حصہ پاکستان کے زیرانتظام ہے۔اس تنازعے کا گذشتہ انہتر سال سے تصفیہ نہ ہونے کی وجہ سے دونوں پڑوسی ممالک میں کشیدگی چلی آرہی ہے اوراس پر دونوں ملکوں میں تین جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ بارہ روز سے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔بھارتی فورسز کی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے تشدد آمیز کارروائیوں میں چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

بھارت نے غلط نقشوں کی اشاعت کے مرتکبین کو کڑی سزائیں دینے کے لیے حال ہی میں ایک نیا قانون متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت نادرست نقشے شائع کرنے والوں کو ڈیڑھ کروڑ ڈالرز جرمانہ اور سات سال قید کی سزا سنائی جائے گی۔

یادرہے کہ سنہ 2011ء میں ''دی اکانومسٹ میگزین'' نے اپنے ایک شمارے میں کشمیر کی متنازعہ سرحدوں کا نقشہ چھاپ دیا تھا۔بھارتی حکومت نے میگزین کو اس نقشے کو چُھپانے کے لیے وائٹ اسٹکر لگانے کی ہدایت کی تھی۔چنانچہ میگزین نے بھارت میں فروخت کی جانے والی اپنی ہزاروں کاپیوں پر کشمیر کے نقشے پر اسی طرح سفید اسٹیکر چسپاں کیے تھے۔گذشتہ سال الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کو خطے کا ''غلط نقشہ'' دکھانے پر بھارت میں پانچ دن کے لیے آف ائیر کردیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں