ترکی: ماہرین تعلیم اور معلمین کے بیرون ملک جانے پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کی اعلیٰ تعلیمی کونسل نے تدریسی ماہرین اور معلمین کے کام کے لیے بیرون ملک جانے پر پابندی عاید کردی ہے اور دوسرے ممالک میں موجود تدریسی ماہرین سے کہا ہے کہ وہ جلد سے جلد وطن لوٹ آئیں۔

ترکی نے گذشتہ جمعے کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد فوج اور پولیس کے بعد تطہیر کا دائرہ کار تعلیمی شعبے تک بھی بڑھا دیا ہے اور محکمہ تعلیم میں موجود فتح اللہ گولن کے حامیوں کو بھی فارغ خطی دینا شروع کردی ہے یا انھیں معطل کیا جارہا ہے۔

اعلیٰ تعلیمی کونسل نے بدھ کے روز یونیورسٹی سیکٹر کو ہدایت کی ہے کہ ''وہ فتح اللہ دہشت گرد تنظیم ( فیٹو) سے تعلق رکھنے والے تمام تدریسی اور انتظامی ملازمین کا فوری طور پر جائزہ لے اور 5 اگست تک جوابی رپورٹ پیش کرے''۔

کونسل نے جامعات سے یہ بھی کہا ہے کہ جو تدریسی ماہرین کام یا تعلیمی مشن پر پہلے سے بیرون ملک گئے ہوئے ہیں ،انھیں جلد سے جلد وطن لوٹ آنے کی ہدایت کی جائے۔

ترک حکومت نے منگل کے روز فتح اللہ گولن کے حامی بعض میڈیا ذرائع کو بند کردیا تھا اور ان کی تحریک اور فوجی بغاوت سے تعلق کے الزام میں وزارت تعلیم کے پندرہ ہزار دو سو ملازمین کو معطل کردیا تھا۔حکومت نے تطہیر کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے تمام پرائیویٹ اور سرکاری جامعات کے مختلف تدریسی شعبہ جات کے قریباً 1600 سربراہوں سے کہا ہے کہ وہ فتح اللہ گولن سے تعلق پر اپنی منصبی ذمے داریوں سے مستعفی ہوجائیں۔

فتح اللہ گولن امریکی ریاست پنسلوینیا میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن ترکی میں فوج ،عدلیہ ،تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں ان کا اثرورسوخ اور ان کے پیروکاروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ترک حکومت انھیں ہی ناکام فوجی بغاوت کا ذمے دار قرار دے رہی ہے مگر انھوں نے حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ ان کا اس میں کسی طرح کا کوئی کردار نہیں تھا۔ان کا کہنا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوآن اس ناکام بغاوت کو ایک جواز بنا کر ان کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں