ترک مذہبی امور نے مقتول باغیوں کی نماز جنازہ ممنوع قرار دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی میں رواں ہفتے کے آغاز میں فوج کے ایک منحرف ٹولے کی جانب سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش ناکام بنائے جانے کے بعد جہاں ایک طرف پولیس، فوج اور عدلیہ سمیت دیگر شعبوں میں آپریشن’کلین اپ‘‘ جاری ہے وہیں ترکی کے محکمہ مذہبی امور نے مقتول باغیوں کی نماز جنازہ کی ادائی پر پابندی عاید کر دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سعودی اخبار’’مکہ‘‘ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ترک محکمہ مذہبی امور کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے دوران ہلاک ہونے والے باغیوں کی نماز جنازہ ادا کی جائے اور نہ ہی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کی جائے۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ترک فوج کے ایک ٹولے نے منتخب حکومت کے خلاف طالع آزمائی کی ناکام کوشش کی تھی۔ حکومت کے خلاف انقلاب کی ناکام کوشش کےدوران ہنگاموں میں 232 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مرنے والوں میں حکومت کے حامی اور باغی دونوں شامل ہیں۔ باغیوں کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے امریکا میں جلا وطنی کی زندگی گذارنے والے رہ نما فتح اللہ گولن کے حامیوں کو سرکاری اداروں سے چن چن کر نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

آپریشن کلین اپ کے دوران اب تک فوج اور پولیس سمیت محکمہ تعلیم کے ہزاروں سرکاری ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے۔

ادھر دوسری جانب ترک حکومت نے ملک میں آنے والے سیاحوں کا تحفظ یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جدہ میں ترکی کے مستقل مندوب صالح مطلوشن نے بتایا کہ ترک حکومت نے موجودہ بحران کے باوجود غیرملکی سیاحوں کی حفاظت یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی میں سیاسی بحران کے باوجود غیرملکی سیاحوں کی آمد و رفت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہے۔ تاہم اس کے باوجود حکومت نے ہنگامی احفاظتی انتظامات کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں