ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ پرمیشل اوباما کی تقریر چوری کا الزام

شوہر نسل پرست، بیوی علمی سرقے میں ملوث!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا میں رواں سال ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اپنے متنازع بیانات کے باعث خود کو دنیا بھر میں ہدف تنقید رہے مگراب اس میدان میں ان کی اہلیہ بھی کود پڑی ہیں۔ لگتا ہے کہ دونوں میاں بیوی نے ’بدنامی‘ کمانے کا ایکا کر رکھا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنے نسل پرستانہ نوعیت کے بیانات کی وجہ سے بدما ہوئے تو ان کی اہلیہ میلانیا پر الزام ہے کہ انہوں نے ری پبلیکن پارٹی کے قومی کنونشن کے دن جو تقریر کی وہ موجودہ خاتون اول میشل اوباما کی سنہ 2008ء میں کی گئی ایک تقریر کے مماثل تھی۔

میلانیا کی تقریر پرسوشل میڈیا پر بھی ایک نئی بحث جاری ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر میلانیا کی تقریر میشل اوباما کی تقریرکی طرح نہ ہوتی تو وہ توجہ کی مرکز ہرگز نہ بنتیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں وہی باتیں کیں جو میشل اوباما آٹھ سال پہلے ایک تقریب میں کرچکی ہیں۔

میلانیا نے Cleveland میں ری پبلیکن پارٹی کےقومی کنونشن کے پہلے روز اپنے شوہر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں پرجوش تقریر کی۔ مگر ان کی تقریر میشل اوباما کی تقریر کا چربہ معلوم ہوتی ہے۔

ٹرمپ کی اہلیہ نے اپنی تقریر میں اپنے شوہر کو ’رحم دل‘ انسان کے طور پر بیان کیا اور کہا کہ وہ ’ملک کے لیے لڑیں گے۔‘

تقریر کے ایک حصے میں مسز ٹرمپ نے کہا: ’میرے والدین نے مجھے یہ اقدار سکھائیں کہ آپ زندگی میں جو چاہتے ہیں اس کے لیے کڑی محنت کریں۔ آپ کے الفاظ آپ کے وعدے ہیں، آپ جو کہیں وہ کریں اور اپنے وعدے پورے کریں، کہ لوگوں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں۔‘

اس سے قبل سنہ 2008ء میں میشل اوباما نے بھی اپنی تقریر میں قریبا یہی الفاظ دہرائے تھے۔

’براک اور مجھے بہت سے مشترکہ اقدار کے ساتھ پالا پوسا گیا کہ آپ جو زندگی میں چاہتے ہیں اس کے لیے کڑی محنت کریں کہ آپ کے الفاظ آپ کے وعدے ہیں، آپ جو کہیں وہ کریں، کہ لوگوں کے ساتھ عزت و وقار سے پیش آئیں اگر چہ آپ انھیں نہ جانتے ہوں اور اگرچہ آپ ان سے اتفاق رائے نہ رکھتے ہوں۔‘

مسز اوباما نے کہا تھا: ’اور براک اوباما اور ہم ان اقدار پر اپنی زندگی کو سنوارنے اور اسے آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی راہ پر نکل پڑے کیونکہ ہم چاہتے ہیں ہمارے بچے اور اس ملک کے سارے بچے یہ جان لیں آپ کی کامیابیوں کی حد صرف آپ کے خواب دیکھنے کی قوت اور ان کے حصول کے لیے محنت کرنے کی آپ کی خواہش پر منحصر ہے۔‘

سوشل میڈیا پر جاری بحث میں ناقدین کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ مسز ٹرمپ نے اپنی تقریر جلد بازی میں تیار کرائی ہے۔ ان کے پاس کہنے کو اس کے علاوہ اور مناسب الفاظ نہیں تھے۔ چنانچہ انہوں نے میشل اوباما کی تقریر کو توڑ مروڑ کر اپنے خطاب میں شامل کرلیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں