.

کیا امریکا گولن کو ترکی کے حوالے کردے گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہائٹ ہاؤس نے منگل کے روز اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اسے ترکی کی حکومت کی جانب سے ایسے لوازمات موصول ہوئے ہیں جو فتح اللہ گولن کو حوالے کیے جانے سے متعلق سرکاری طور پر درخواست کی حیثیت رکھتے ہیں۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وزارت انصاف اور وزارت خارجہ ، ترکی اور امریکا کے درمیان تحویل مجرمان کے معاہدے کے تحت موصولہ لوازمات کا جائزہ لیں گی۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ معاہدہ تیس برس سے زیادہ پرانا ہے۔

وہائٹ ہاؤس کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران باور کرایا کہ امریکا اس معاہدے کے مطابق اپنی ذمے داری کو پورا کرے گا جس میں 1999 سے ریاست پینسلوینیا میں مقیم 75 سالہ فتح اللہ گولن کے حقوق سے متعلق قانونی اقدامات کی پاسداری بھی شامل ہے۔

گولن کی حوالگی کے لیے کن اہم شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے ؟

ترکی اور امریکا کے درمیان معاہدے کے مطابق مطلوب شخص کو جس جرم کا ملزم ٹھہرایا گیا ہے وہ دنوں ملکوں میں جرم شمار ہونا چاہیے۔ مثلا جمہوری طریقے سے منتخب نظام یا حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش یا افراد کو قتل یا زخمی کرنے کی سازش تیار کرنا.. یہ دنوں ممالک میں ہی جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔ اگر ترکی گولن کے اس سازش میں ملوث ہونے سے متعلق ثبوت پیش کردیتا ہے تو اس سے گولن کی حوالگی کے حوالے سے بہت اہم شرط پوری ہوجائے گی۔ پیش کیے جانے والے ثبوتوں کا امریکا میں ملزم ٹھہرانے اور گرفتار کیے جانے کے لیے کافی ہونا بھی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں واشنگٹن میں قانونی امور کے بیورو میں بین الاقوامی تنازعات کی وکیل تارا بلوکوکی کا کہنا ہے کہ "یہ ایسا جرم ہونا چاہیے جس کی امریکا میں سزا ایک سال سے زیادہ ہو"۔ ترکی کی حکومت کو امریکا کو یہ ضمانت بھی دینا ہوگی کہ وہ گولن کو صرف ان جرائم کا ہی ملزم ٹھہرائے گی جن کے متعلق ثبوت کو اس نے حوالگی کی درخواست کے ساتھ پیش کیا ہے۔

سرکاری درخواست سے لے کر حوالگی تک ہونے والے اقدامات کیا ہیں ؟

وہائٹ ہاؤس کی جانب سے اس بات کا انکشاف مسترد کردیا گیا ہے کہ آیا ترکی کی جانب سے موصول ہونے والا مواد سرکاری طور پر درخواست ہے یا نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکی انتظامیہ کو ابھی تک کسی انتہائی اہم شرط کے پورا ہونے کا یقین نہیں ہے اور وہ یہ کہ اگر درخواست میں عدالتی الزام اور ترکی کے کسی اٹارنی جنرل کی جانب سے گرفتاری کے وارنٹ شامل ہیں تو پھر یہ درخواست ترکی کی عدالت کی طرف سے آنا چاہیے نہ کہ خود ترکی کے صدر یا حکومت کی جانب سے۔ سرکاری طور پر درخواست پیش کیے جانے کے بعد وزارت خارجہ ثبوتوں کو جانچے گی۔ اگر یہ کافی ہوئے تو پھر معاملے کو وزارت انصاف کے حوالے کردیا جائے گا جو اپنی ہدایات بھی دے گی۔ اس کے بعد ملزم جس علاقے میں رہتا ہے یہ معاملہ وہاں کے فیڈرل اٹارنی جنرل کے سپرد کر دیا جائے گا تاکہ گولن کو گرفتار کیا جائے۔

پھر کچھ ہی عرصے میں ایک اعلانیہ عدالتی سیشن میں گولن اور وزارت انصاف کے وکلاء اپنے اپنے دلائل جج کے سامنے پیش کرِیں گے جس کے پاس آخری فیصلہ ہوگا۔ گولن کے وکیل اس بات کے دلائل پیش کرنے کی کوشش کریں گے کہ یہ الزام مجرمانہ نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا ہے۔ تاہم خاتون وکیل بلوکوکی کے مطابق "اس مرحلے پر گولن کی جیت کے مواقع بہت کم ہوں گے" اس لیے کہ وزارت انصاف عام طور پر ایسے مقدمات کو ہی آگے بڑھاتی ہے جس میں اس کو کامیابی کا پورا یقین ہو۔ اگر جج نے وزارت عدل کے حق میں فیصلہ دیا تو گولن کو اپیل کی اجازت ہوگی۔ اگر گولن اپیل کے بعد ناکام ہوگئے تو پھر ان کو ترکی روانہ کردیا جائے گا۔ اس کارروائی میں عموما ایک سال سے زیادہ کا وقت درکار ہوتا ہے اور اس میں بہت سی انتظامی اور قانونی پیچیدگیاں بھی ہوتی ہیں۔

حوالگی کا فیصلہ قانونی ہے یا سیاسی ؟

حوالگی کا فیصلہ قانونی اور عدالتی ہے تاہم بلوکوکی کے مطابق درحقیقت یہ سیاسی اور قانونی فیصلوں کا مرکب ہے۔ "معاہدے میں ایک شق یہ کہتی ہے کہ الزامات اور ثبوت کے سیاسی عمل سے متعلق ہونے کی صورت میں حوالگی عمل میں نہیں آئے گی۔ لہذا پھر وزارت خارجہ کو اس امر کو دیکھنا چاہیے"۔

گولن کو حوالے کیے جانے کے کتنے امکانات ہیں ؟

خاتون وکیل بلوکوکی کے مطابق اس کے بہت زیادہ امکانات ہیں فقط شرط یہ ہے کہ انقرہ حکومت ایسے دلائل پیش کردے جن سے تشدد کے واقعات کے لیے گولن کی سپورٹ ثابت ہوجائے۔ بلوکوکی کا کہنا ہے کہ "امریکا انسداد دہشت گردی کی پاسداری کے معاہدوں میں شریک ہے۔ اگر گولن کی طرف سے سازش کرنا یا تشدد کے واقعات پر ان کی موافقت کا ہونا ثابت ہوجاتا ہے تو پھر گولن کے وکیل یہ حربہ استعمال نہیں کرسکیں گے کہ یہ مقدمہ مجرمانہ نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا ہے۔

دوسری جانب ترکی کی عدلیہ پر عدم خودمختاری کا الزام ، قانونی طور پر زیادہ وزن نہیں رکھتا ہے۔ جیسا کہ بلوکوکی کا کہنا ہے کہ امریکا کا ترکی کے ساتھ معاہدے میں شریک ہونا اس کا مطلب ہے کہ امریکی انتظامیہ اس بات پر مطمئن ہے کہ ترکی کا عدالتی نظام منصفانہ ہے، اگرچہ معاہدے پر 1979ء میں مکمل طور پر ایک مختلف زمانے میں دستخط کیے گئے تھے۔