ترکی میں ایمرجنسی میں کیا ہوگا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترکی میں انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد صدر رجب طیب ایردوآن نے بدھ کے روز ملک میں 3 ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ آخر یہ ایمرجنسی ہوتی کیا ؟

دنیا کے ممالک میں جب کوئی قدرتی آفت واقع ہوتی ہے یا پھر ہنگامہ آرائی ، بغاوت اور مسلح لڑائی مثلا خانہ جنگی کی صورت حال پیش آتی ہے تو وہاں ایمرجنسی نافذ کی جاتی ہے۔ تاہم ہر ملک میں اس کے آئین کے مطابق اس ہنگامی حالت کی علاحدہ تعریف ہے۔

کسی بھی ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ہی عسکری قانون کے تحت کام شروع ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب ایگزیکٹو اتھارٹی کو وسیع اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں جن میں کرفیو نافذ کرنا اور گرفتاریاں عمل میں لانا شامل ہیں۔

تاہم ایردوآن نے ترکی میں 3 ماہ کے لیے ایمرجنسی (جو کہ ترکی کے آئین کے مطابق 6 ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی) نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے عوام کو اطمینان دلایا ہے کہ ایمرجنسی کے دوران فوج ملک کو نہیں چلائے گی یعنی کہ اس عرصے میں عسکری قانون کے تحت کام نہیں کیا جائے گا۔

ترکی میں ایمرجنسی کے اعلان کا فیصلہ کابینہ کی جانب سے ایک اجلاس کے بعد کیا جاتا ہے۔ اجلاس کی صدارت ملک کا صدر کرتا ہے۔ بعد ازاں اس فیصلے کو توثیق کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے اور اس کی مدت 6 ماہ سے تجاوز نہیں کرتی۔ پارلیمنٹ کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ کابینہ کی درخواست کی بنیاد پر ہر بار اس کو اضافی طور پر 4 ماہ کے لیے بڑھا دے۔ یہ اس صورت میں ہوتا ہے جب ملک کے کسی مخصوص علاقے یا عمومی طور پر پورے ملک میں ایمرجنسی کے اعلان کا تقاضا کرنے والے حالات جاری رہیں۔

ترکی کا آئین حکومت کو یہ حق فراہم کرتی ہے کہ وہ حالات کے مطابق جزوی یا کلی طور پر بنیادی حقوق اور آزادی سے استفادے کو معطل کر دے اور آئین میں دی گئی ضمانتوں کے مخالف اقدامات اٹھائے۔ تاہم شرط یہ ہے کہ اس دوران کاروبار زندگی اور مادی اور معنوی املاک سے متعلق افراد کے حقوق میں مساوات کو کسی طور نقصان نہ پہنچے اور لوگوں کو اپنے مذہب اور فکر کے بارے میں اعلان کرنے مجبور نہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ عدالت کے فیصلے کے بغیر لوگوں کو مجرم بھی نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

اسی طرح ترکی کا آئین ایک صوبے کے گورنر کو بھی ایمرجنسی نافذ کرنے کے اختیارات دیتا ہے اگر اس کی ضرورت کسی ایک صوبے تک محدود ہو۔ تاہم پورے ملک میں ایمرجنسی کے اعلان کی صورت میں ذمہ داریاں اور اختیارات کوآرڈی نیشن اور کوآپریشن پریذیڈنسی کو دیے جاتے ہیں۔

رواں ماہ کی 15 تاریخ کو جمعہ کی شب انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد تقریبا 50 ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں فوج اور پولیس کے اہل کاروں کے علاوہ عدالتوں کے جج، سرکاری ملازمین اور اساتذہ شامل ہیں۔ اس امر نے 8 کروڑ کی آبادی والے ملک میں شدید بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے۔

مزید برآں اکیڈمکس کو بھی بیرون ملک سفر سے روک دیا گیا ہے۔ ایک ترک ذمہ دار کے مطابق اس عارضی اقدام کا مقصد مشتبہ افراد کے فرار ہونے کو روکنا ہے کیوں کہ وہ جامعات سے تعلق رکھنے والے انقلاب کے منصوبہ ساز ہیں۔ سرکاری ٹی وی " ٹی آر ٹی" کے مطابق صرف ایک استنبول یونی ورسٹی میں 95 اکیڈمکس کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا گیا ہے۔

ادھر مغربی ممالک کی جانب سے مسلسل طور پر ترکی کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، انتقامی اقدامات اور سزائے موت پر دوبارہ عمل درامد شروع کرنے سے گریز کرے۔ یورپی یونین نے ترکی کو بطور رکن ملک قبول کرنے کے لیے سزائے موت کو معطل کرنے کی شرط رکھی تھی جس کے بعد 2004ء سے اس پر عمل درامد روک دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں