کویت : ایران کے جاسوسی سیل کے سرغنہ کی سزائے موت برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کویت کی ایک اپیل عدالت نے ایران نواز سیل تشکیل دینے اور ریاست میں دہشت گردی کے حملوں کی سازش کے الزام میں ایک شیعہ شہری کو سنائی گئی سزائے موت بحال رکھی ہے۔

عدالتی دستاویز کے مطابق مجرم حسن عبدالہادی علی لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا 1996ء سے رکن تھا اور وہ 26 ارکان پر مشتمل ایک سیل کا سرغنہ تھا۔اس سیل پر کویت میں دہشت گردی کے حملوں کی سازش کا الزام تھا۔

کویت کی ایک ماتحت عدالت نے ایک ایرانی کو بھی انہی الزامات میں ماخوذ قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی لیکن اپیل عدالت نے جمعرات کو اس کے خلاف مقدمے کی سماعت نہیں کی ہے کیونکہ وہ مفرور ہے اور کویتی قانون کے تحت فیصلہ سنائے جانے کے وقت ملزم کو عدالت میں موجود ہونا چاہیے۔

ماتحت عدالت سے قید کی سزا پانے والے دو مفرور کویتیوں کے کیس پر بھی غور نہیں کیا گیا ہے اور اپیل عدالت نے ان کی عدالت میں پیشی تک غور موخر کردیا ہے۔عدالت نے اس سیل کے ایک اور رکن کی عمرقید کی سزا کی توثیق کردی ہے جبکہ پانچ اور افراد کو سنائی گئی دو سے پانچ سال جیل کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔پانچ اور افراد کو قصور وار قرار دے کر پانچ پانچ ہزار دینار (16600 ڈالرز) جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے اور باقی ملزموں کو بری کردیا گیا ہے۔

یادرہے کہ کویت کی ایک ماتحت عدالت نے 12 جنوری کو ایران اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے لیے جاسوسی کے جُرم میں دو افراد کو سزائے موت کا حکم دیا تھا۔اس مقدمے میں ان دونوں کے علاوہ چوبیس اور کویتی بھی ماخوذ تھے۔عدالت نے ان میں سے ایک کو قصور وار قرار دے کر عمرقید کی سزا سنائی تھی۔انیس کویتیوں کو پانچ سے پندرہ سال کے درمیان قید کی سزائیں سنائی تھیں۔عدالت نے تین ملزموں کو برّی کردیا تھا اور ایک مجرم پر صرف جرمانہ عاید کیا تھا۔

کویتی حکام نے اگست 2015ء میں ایران سے وابستہ مشتبہ افراد کے اس سیل کو توڑنے کی اطلاع دی تھی اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود کی بھاری مقدار پکڑی تھی۔اس سیل کے ارکان پر ایران کے لیے جاسوسی اور زیرزمین ڈپوؤں میں بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود چھپانے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔اس میں خطرناک دھماکا خیز مواد بھی شامل تھا۔

جنوری میں ماتحت عدالت نے قراردیا تھا کہ سیل کے ایرانی رکن نے کویتی شیعوں کو بھرتی کیا تھا اور ان کے لیے لبنان کے سفر کا انتظام کیا تھا جہاں انھوں نے ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے فوجی تربیت حاصل کی تھی۔

اس نے کہا تھا کہ عبدالہادی علی کویت شہر میں ایرانی سفارت خانے میں ایک ایرانی سفارت کار کے پاس چلا گیا تھا اور بعد میں وہاں سے ایران فرار ہو گیا تھا جہاں وہ پاسداران انقلاب کے ساتھ روابطے میں تھا۔اسی نے پاسداران انقلاب کے ساتھ مل کر اسلحے اور گولہ بارود کی بھاری مقدار کویت اسمگل کرنے کا انتظام کیا تھا۔ اپیل عدالت کے اس فیصلے کے خلاف کویت کی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔

اس مقدمے کی سماعت کے دوران تمام تیئیس مدعاعلیہان نے عدالت کے روبرو بیان دیتے ہوئے اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کی تردید کی تھی اور الٹا یہ الزام عاید کیا تھا کہ ان پر تشدد کے ذریعے یہ اعترافی بیانات لیے گئے تھے۔ایران اس گروپ کے ساتھ کسی قسم کے تعلق کی تردید کرچکا ہے۔واضح رہے کہ کویت کی مقامی تیرہ لاکھ آبادی میں سے قریباً ایک تہائی شیعہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں