حکومت کے خلاف بغاوت کی نئی سازش کا خدشہ ہے: ایردوآن

فتح اللہ گولن کے حامیوں نے قوم پر بمباری کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ گذشتہ جمعہ کو منتخب حکومت کے خلاف فوج کے ایک ٹولے کی جانب سے بغاوت کی ناکام کوشش انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی کا نتتیجہ تھی کیونکہ شبہ ہے کہ انٹیلی جنس اداروں کے پاس بغاوت کی سازش کے بارے میں مکمل معلومات نہیں تھیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت کے خلاف بغاوت کی ایک نئی سازش بھی ہو سکتی ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’’رائٹرز‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ترک صدر نے کہا کہ مسلح افواج تیزی کے ساتھ اپنے ڈھانچے کی تشکیل نو کر رہی ہے۔ نیا فوجی ڈھانچہ جلد ہی تشکیل پا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ خدشہ ہے کہ حکومت کا تختہ الٹنے کی ایک نئی سازش بھی کی جائے مگر یہ اتنا آسان نہیں ہو گا کیونکہ ہم پہلے سے زیادہ محتاط ہیں۔

ترک صدر نے تسلیم کیا کہ حکومت کے خلاف بغاوت کی سازش سیکیورٹی اداروں کی ناقص معلومات کا نتیجہ تھی۔ میں نے انٹیلی جنس چیف سے کہا ہے کہ سازش کو مخفی رکھنے کی کوشش یا اس کی تردید کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

صدر نے کہا کہ 103 فوجی افسران سمیت بغاوت کے شبے میں 10ہزار سے زاید افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک میں تین ماہ کے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر وہ ہنگامی حالت میں توسیع کر سکتے ہیں۔

قبل ازیں اپنے ایک دوسرے بیان میں صدر ایردوآن نے کہا تھا کہ امریکا میں جلا وطنی کی زندگی گذارنے والے فتح اللہ گولن کے حامی فوجیوں نے نہتے شہریوں پر بمباری کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں