جرمنی کے ایک تجارتی مرکزپر حملے میں 10 ہلاک

سعودی عرب کی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جرمنی کے شہر میونخ کی پولیس نے بتایا ہے کہ جمعہ کی شام شہر کے ایک مصروف تجارتی مرکز میں فائرنگ کے ایک واقعے کے نتیجے میں کم سے کم 10 افراد ہلاک اور اتنے ہی زخمی ہوگئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے غیرملکی خبر رساں اداروں کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ میونخ شہر میں جمعہ کی شام اولمپک سینٹر نامی تجارتی مرکز پرحملہ کرنے والے ایک شخص کی لاش قبضے میں لی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں شبہ ہے کہ حملہ آور ایک ہی تھا جس نے تجارتی مرکز میں لوگوں پر اندھا دھند گولیاں چلانے کے بعد اسی بندوق سے خود کشی کرلی تھی۔

جرمن ریڈیو ’پائریریشر رونڈ فنک‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مشتبہ مقتول حملہ آور نعش کے قریب سے سرخ رنگ کا ایک بیگ بھی ملا ہے، پولیس نے روبوٹ کی مدد سے اس کی تلاشی لی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک مشتبہ خود کش حملہ آور کی نعش قبضے میں لینے کے بعد اس کی شناخت اور تحقیقات شروع کردی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ یہ ایک شخص کی انفرادی کارروائی ہے۔

واقعے کے فوری بعد پولیس نے مقامی تجارتی مرکز اور اس کے آس پاس کے مقامات میں ہنگامی حالت نافذ کی تھی تاہم اب ہنگامی حالت ختم کردی گئی ہے البتہ شہریوں کو سخت محتاط رہنے کی بدستور ہدایت ہے۔

پولیس نے شہریوں سےکہا ہے کہ وہ میونخ میں حملے کا شکار ہونے والے تجارتی مرکز کے قریب نہ آئیں۔ اس مرکز کے قریب رہنے والے شہری گھروں سے باہر نہ نکلیں۔پولیس نے شہر کی تمام مصروف شاہرائیں اور زیادہ رش والے مقامات بھی بند کردیے ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جرمن بارڈر فورس کے ہیلی کاپٹر میونخ کی جانب روانہ کیے گئے ہیں۔ جرمنی نے پڑوسی ملک چیک کے ساتھ متصل سرحد سیل کردی ہے تاکہ ممکنہ طورپر حملہ آور سرحد پار نہ فرار نہ ہوسکیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی مشیرہ پیٹر التمائر کا کہنا ہے کہ حکام اس بات کی تصدیق نہیں کرسکے ہیں کہ آیا یہ ایک دہشت گردانہ کارروائی تھی یا نہیں۔ جرمن ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم فی الوقت میونخ میں تجارتی مرکز پرحملے کے واقعے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دینے کی تصدیق نہیں کرسکتے۔ البتہ اس کی تحقیقات جاری ہیں۔

میونخ واقعے کے تناظر میں جرمنی کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس آج ہفتے کو طلب کرلیا گیا ہے۔

جرمن حکومت کے ترجمان اسٹیفن سیپرٹ نے ’ٹوئٹر‘ پر ایک بیان میں بتایا کہ تمام وزراء کو برلن بلالیا گیا ہے۔ میونخ واقعے پر آج فیڈرل سیکیورٹی کونسل کا اہم اجلاس بھی ہو رہا ہے جس میں امن وامان کی صورت حال کا جائزہ اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

جرمن وزیر خارجہ فرانک فالٹر اشٹائنمر نے ایک بیان میں کہا ہے کی میونخ واقع کے پس پردہ عوامل ابھی تک واضح نہیں ہوسکے ہیں۔

ادھر دوسری جانب میونخ واقعے پر عالمی سطح پر شدید رد عل سامنے آیا ہے۔ سعودی عرب نے میونخ دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں