صدر ایردوآن کا 1000 سے زیادہ اسکولوں کو بند کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ایک ہزار سے زیادہ نجی اسکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے اور ناکام فوجی بغاوت سے تعلق رکھنے والے مشتبہ افراد کو کسی فرد الزام کے بغیر زیر حراست رکھنے کی مدت میں اضافہ کردیا ہے۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق صدر ایردوآن کے دستخطوں سے ہفتے کے روز جاری کردہ اس حکم کے تحت حکومت کو گولن تحریک سے مشتبہ تعلق کے الزام میں 1043 نجی اسکولوں ،1229 خیراتی اداروں اور فاؤنڈیشنوں،19 ٹریڈ یونینوں،15 جامعات اور 35 میڈیکل اداروں کو بند کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا ہے۔

صدر ایردوآن نے مشتبہ افراد کو تفتیش کی غرض سے زیادہ سے زیادہ تیس روز تک زیر حراست رکھنے کی بھی منظوری دی ہے۔اس سے پہلے مشتبہ افراد کو زیادہ سے زیادہ چار روز تک زیر حراست رکھا جاسکتا تھا۔اس مدت میں توسیع کا مقصد ناکامی فوجی بغاوت میں ملوّث افراد کے خلاف تفتیش کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ہے۔

پارلیمان میں اب بھی اس حکم نامے کی منظوری ضروری ہے۔تاہم اب اس کے لیے صرف سادہ اکثریت درکار ہوگی اور پارلیمان میں حکمراں انصاف اور ترقی پارٹی (آق) کو سادہ اکثریت حاصل ہے۔

گذشتہ بدھ کے روز ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے اعلان کے بعد یہ ان کا پہلا حکم نامہ ہے۔ایمرجنسی کی حالت میں ترک صدر اور حکومت پارلیمان کی منظوری سے قبل بھی قانون نافذ کرسکتے ہیں اور وہ بعض انسانی حقوق اور آزادیوں کو بھی معطل کرسکتے ہیں۔

صدر ایردوآن نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے حکام کو مؤثرانداز میں اور تیز رفتاری سے 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت میں ملوّث افراد اور سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی میں مدد مل سکے گی۔

انھوں نے جمعہ کی شب ارکان پارلیمان سے خطاب میں گولن ''دہشت گرد'' تحریک کے حامیوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔انھوں نے پارلیمان کی عمارت کے نقصان زدہ حصوں کا بھی معائنہ کیا تھا۔انھیں گذشتہ ہفتے باغی فوجیوں کی پارلیمان پر قبضے کی کارروائی کے دوران نقصان پہنچا تھا۔

ترکی میں حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام فوجی سازش میں ملوّث اعلیٰ سرکاری عہدے داروں اور ملازمین کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور حکومت نے فوج ،پولیس اورعدلیہ کے بعد اس کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے جامعات ،اسکولوں ،انٹیلی جنس ایجنسی اور سرکاری مذہبی اداروں میں بھی تطہیر کا عمل شروع کر رکھا ہے۔

صدر رجب طیب ایردوآن نے سرکاری اداروں کو امریکا میں مقیم مسلم دانشور فتح اللہ گولن کے حامیوں سے پاک کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اورناکام فوجی بغاوت کے بعد ساٹھ ہزار فوجیوں ،پولیس اہلکاروں،ججوں ،سرکاری ملازمین اور اساتذہ کو برطرف یا معطل کیا جاچکا ہے یا انھیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں