کابل :داعش کا تباہ کن بم حملہ، 80 افراد ہلاک اور 240 زخمی

احتجاجی جلوس میں بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ،افغانستان میں اتوار کو یوم سوگ کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہفتے کے روز ہزارہ وال اہل تشیع کے ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران خودکش بم دھماکوں میں اسّی افراد ہلاک اور کم سے کم دو سو چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔

داعش نے اپنی نیوزایجنسی اعماق کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں اس تباہ کن بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔اگر اس جنگجو گروپ کا یہ دعویٰ درست ثابت ہوجاتا ہے تو یہ افغان دارالحکومت میں اس کا پہلا خودکش بم حملہ ہوگا۔پاکستانی اور افغان طالبان سے منحرف ہوکر داعش میں شامل ہونے والے جنگجو گذشتہ سال سے مشرقی صوبے ننگرہار میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی نے ایک نشری بیان میں دہشت گردی کے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور اتوار کو ملک میں ایک دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔افغان وزارت داخلہ نے بم دھماکوں میں اسی افراد کی ہلاکت اور دو سو سینتیس کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔وزارت صحت کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ وحید مجروح کا کہنا ہے کہ ان تباہ کن بم دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ بہت سے زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق مظاہرے میں ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد شریک تھے اور وہ حکومت سے بجلی کی بڑی علاقائی لائن کا روٹ تبدیل کرکے اس کو اپنے صوبے سے گزارنے کا مطالبہ کررہے تھے۔

ایک عینی شاہد رامین انوری نے بتایا ہے کہ خودکش بم دھماکا کابل کے علاقے دمازنگ میں ہوا ہے۔وہاں مظاہرین چار گھنٹے کے مارچ کے بعد ایک کیمپ قائم کرنے کی تیاری کررہے تھے۔

افغان ٹیلی ویژن چینلز سے نشر ہونے والی فوٹیج میں بم دھماکے کی جگہ پر متعدد لاشیں اور انسانی اعضاء بکھرے پڑے نظر آرہے ہیں۔ان مںاظر کی سوشل میڈیا پر بھی تصاویر پوسٹ کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ ہزارہ نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کی اکثریت شیعہ ہے اور ان کا اپنے صوبے بامیان میں بجلی کی لائن کے ایشو پر کابل میں یہ دوسرا مظاہرہ تھا۔اس سے پہلے انھوں نے مئی میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جس کے دوران کابل کے وسطی حصے میں کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا تھا۔

اس مارچ میں بہت سے ہزارہ سیاسی لیڈروں نے بھی شرکت کی تھی لیکن وہ ہفتے کے روز مظاہرے میں نظر نہیں آئے ہیں۔مظاہرین نے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔انھوں نے ہزارہ وال سے امتیازی سلوک بند کرنے اور تمام افغانوں سے مساوی سلوک کرنے کا مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں