گولن کی ترکی کو حوالگی،فیصلہ قانون کے مطابق کریں گے:اوباما

امریکا ترکی میں جمہوریت کا ساتھ دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ ترک حکومت کی جانب سے جلاوطن مذہبی لیڈر فتح اللہ گولن کی حوالگی کے بارے میں دی گئی کسی بھی درخواست پر فیصلہ امریکی قانون کے مطابق ہی کریں گے۔

امریکی صدر نے میکسیکو کے اپنی ہم منصب انریکی بینیا نییٹو سے کے ہمراہ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکی میں بغاوت کی ناکام سازش میں ملوث قرار دیے گئے فتح اللہ گولن کی ترکی کو حوالگی کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے جو بھی فیصلہ کیا وہ امریکی قانون کے تابع ہوگا۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ ثابت کرنا ہے کہ امریکا قانون کی پاسداری کرنے والا ملک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ترکی کی درخواست پر فتح اللہ گولن کی حوالگی کے بارے میں جو بھی فیصلہ کیا وہ قانون کے مطابق ہوگا‘۔

انہوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ امریکا کو ترکی میں 15 جولائی کی فوجی بغاوت کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات تھیں۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ترکی میں فوجی بغاوت کے بارے میں ہمارے پاس کسی قسم کی پیشگی معلومات نہیں تھیں۔ اس نوعیت کی الزام تراشی کا مقصد امریکا کو ترکی کے موجودہ بحران میں ملوث قرار دینے کی کوشش ہے۔ ہم نے جمہوری راستہ اختیار کیا اور واضح کیا ہے کہ ترکی کی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت غلط تھی اور امریکا ترکی میں جمہوریت کے ساتھ ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 1999ء سے امریکا میں جلا وطن کے طور پرسکونت اختیار کرنے والے ترکی کے مذہبی رہ نما فتح اللہ گولن پر موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ تاہم فتح اللہ گولن نے حکومت کے خلاف سازش کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے امریکا سے کہا ہے کہ وہ انہیں ترکی کے حوالے نہ کرے۔

منگل کو امریکی صدر باراک اوباما نے صدر طیب ایردوآن سے ٹیلیفون پر بات چیت میں فتح اللہ گولن کی ترکی کو حوالگی کے بارے میں بھی صلاح مشورہ کیا تھا۔ امریکی صدر نے یقین دلایا کہ وہ فوجی بغاوت کے بارے میں تحقیقات کے لیے ترکی کی حکومت ہرممکن مدد کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں