ایرانی نژاد "میونخ" حملہ آور انٹرپول کے ریکارڈ میں معروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جرمنی کے شہر میونخ میں جمعے کے روز فائرنگ کے واقعے میں حملہ آور سمیت 10 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہOlympia ایک شاپنگ سینٹر میں پیش آیا جہاں ایک 18 سالہ ایرانی نژاد جرمن شہری نے اندھادھند فائرنگ کر کے 9 افراد کو موت کی نیند سلا دیا ، واقعے میں 21 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں 3 کی حالت تشویش ناک ہے۔ بعد ازاں حملہ آور نے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔ میونخ شہر کی پولیس کے سربراہ ہربرٹس آندرے کے مطابق ابھی تک حملے کا مقصد معلوم نہیں ہوسکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آور کی لاش واقعے کے ڈھائی گھنٹے بعد اولمپیا شاپنگ سینٹر سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ملی۔

ادھر پرتگال کے ایک اخبار Correio da Manhã نے ہربرٹس آندرے کے حوالے سے ہی بتایا ہے کہ "حملہ آور انٹرپول کے ریکارڈ میں معروف ہے"۔

میونخ پولیس سربراہ ہربرٹس آندرے نے ہفتے کی صبح ایک پریس کانفرنس میں عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ "داعشی" طرز کی نظر آنے والی اس کارروائی میں ابتدا میں 3 افراد کا ہاتھ تھا۔ بعد ازاں واضح ہوا کہ جرمنی میں طویل عرصے سے مقیم نوجوان ہی کارروائی پر کرنے والا واحد حملہ آور ہے۔ اس نے پہلے فاسٹ فوڈ ریستوران میکڈونلڈز کے داخلی راستے کے نزدیک راہ گیروں پر فائرنگ کی اور اس کے بعد نزدیک واقع شاپنگ سینٹر میں داخل ہوگیا تاکہ مزید افراد کو نشانہ بنا سکے۔

میں جرمن ہوں ، میں یہاں پیدا ہوا.. اے تُرکوں تم پر لعنت ہو

میونخ پولیس کے سربراہ نے یہ بھی بتایا کہ "اس قتل و غارت کا ارتکاب کرنے والے کے ساتھ ایک سُرخ بیگ بھی تھا جس کا ابھی معائنہ کیا جارہا ہے۔ پولیس نے صورت حال سے نمٹنے کے لیے 2300 ارکان کو چوکنا کر دیا تھا۔ ان میں انسداد دہشت گردی کا خصوصی یونٹ "جی ایس جی 9" بھی شامل ہے۔ ملک کے تیسرے بڑے شہر میونخ میں 8 گھںٹوں کے لیے ہنگامی حالت کا بھی اعلان کیا گیا۔

ادھر جرمن وزیر خارجہ فرینک والٹراشٹائنمائر نے نیوز ایجنسیوں کو بھیجے گئے ای میل بیان میں باور کرایا کہ "ابھی اس مکروہ عمل کا مقصد پوری طرح واضح نہیں ، ہمیں ابھی تک متضاد معلومات موصول ہو رہی ہیں".

جرمن پولیس نے بتایا ہے کہ حملہ آور جرمنی میں ہجرت کر کے آنے والا ایرانی نژاد تھا اور اس نے انفرادی طور پر یہ کارروائی کی۔ تاہم جرمنی کے ایک مشہور مقامی اخبارBild کے صحافی Julian Ropcke نے عجیب معلومات شائع کی ہیں۔ "العربيہ ڈاٹ نیٹ" نے اس کے ترجمے کا جائزہ لیا جس میں بتایا گیا ہے کہ فائرنگ کرنے والا حملہ آور یہ چلّا رہا تھا کہ "میں ایک جرمن ہوں۔ میں یہاں پیدا ہوا.. اے تُرکوں تم لوگوں پر لعنت ہو"۔ صحافی کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ چیخنے والا شکص ایرانی نوجوان نہیں بلکہ فائرنگ کرنے والا کوئی دوسرا شخص ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں