ترکی صدارتی گارڈ تحلیل کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز ایوان صدر کی حفاظت کے ذمہ دار صدارتی گارڈز کو تحلیل کیا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک وزیراعظم نے ایک ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہاکہ ’اب کے بعد کسی صدارتی گاڈز نامی فورس کی ضرورت نہیں ہو گی، ہمیں ایسے ادارے اور لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں جو اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا نہ کر سکیں‘‘۔ انہوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب صدر رجب طیب ایردوآن کی حفاظت پر مامور ادارے کے 283 اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ترکی میں صدارتی محل کی حفاظت پر مامور صدارتی گارڈز میں 2500 اہلکار شامل ہیں۔ ان کے خلاف تازہ کارروائی 15 جولائی کو حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش کے بعد جاری آپریشن کلین اپ کا حصہ ہے۔

وزیراعظم نے اپنی گفتگو میں اشارتاً کہا کہ سرکاری ٹی وی ’ٹی آر ٹی‘ کے ہیڈ کواٹر میں داخل ہونے والے اہلکاروں میں صدارتی عملے کے اہلکار بھی ملوث تھے۔ انہوں نے نیوز کاسٹر کو حکومت کا تختہ الٹنے اور ملک میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان پڑھ کر سنانے پر مجبور کیا تھا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ اداروں میں تطہیر کے لیے جاری آپریشن کے دوران اب تک 1329 پولیس اہلکاروں، 8831 فوجیوں،2100 ججوں اور 689 عام شہریوں کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 123 جرنیلوں اور 3718 فوجیوں سمیت 5837 افراد کو شبے کی بنیاد پر حراست میں رکھا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں