ترکی : فتح اللہ گولن کا بھتیجا فوجی بغاوت کے الزام میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی میں حکام نے امریکا میں مقیم حکومت مخالف عالم فتح اللہ گولن کے بھتیجے کو گرفتار کر لیا ہے۔گذشتہ ہفتے کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد ان کے کسی قریبی رشتے دار کی یہ پہلی گرفتاری ہے۔

ترکی کے سرکاری ذرائع کے مطابق محمد سید گولن کو مشرقی علاقے ایرزرم سے گرفتار کیا گیا ہے اور انھیں دارالحکومت انقرہ منتقل کردیا جائے گا۔اس علاقے میں ان کے چچا اور ان کی تحریک کے پیروکاروں اور حامیوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے اور یہ ان کی جائے پیدائش کوروچک کے نزدیک واقع ہے۔

ترک حکومت امریکی ریاست پنسلوینیا میں مقیم فتح اللہ گولن پر گذشتہ ہفتے کی ناکام فوجی بغاوت کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام عاید کررہی ہے لیکن وہ اس الزام کو سختی سے مسترد کرچکے ہیں۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق سید گولن کو ناکام فوجی بغاوت سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ وہ حکام کو 2010ء میں سول سروس کے امتحانی پرچے افشاء کرنے کے الزام میں بھی مطلوب تھے۔

ترکی کے ایک اور صوبے ایریزنچن میں بھی ہفتے کے روز فوجی بغاوت سے تعلق کے الزام میں 263 سرکاری ملازمین اور 45 دیگر افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس صوبے میں بھی گولن تحریک کے پیروکاروں کی بڑی تعداد رہ رہی ہے۔

صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے خلاف 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے فوج ،عدلیہ ،پولیس اور دوسرے سرکاری اداروں میں تطہیر کا عمل جاری ہے اور گولن تحریک سے وابستہ ہزاروں فوجیوں ،ججوں اساتذہ اور سرکاری ملازمین کو گرفتار ،برطرف یا معطل کیا جاچکا ہے اور زیر حراست سابق عہدے داروں اور ملازمین سے ان سے پاچھ تاچھ کی جارہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں