ترکی: فتح اللہ گولن کا "دست راست" گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی میں ایک سرکاری ذمہ دار نے بتایا ہے کہ فتح اللہ گولن کے ایک قریبی معتمد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ترک حکام گولن پر 15 جولائی کی فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کرتے ہیں۔

سیکورٹی فورسز نے "ہائلز ہانجی" کو ملک کے شمالی صوبے طرابزون سے گرفتار کیا۔ ذمہ دار کے مطابق ہانجی گولن کا "دست راست" اور گولن تک مالی رقوم پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔امریکا میں مقیم گولن ناکام انقلاب کی کوشش سے اپنے تعلق کی تردید کرتے ہیں۔

سرکاری ذمہ دار نے بتایا لگتا ایسا ہے کہ ہائلز ہانجی 15 جولائی کو فوجی بغاوت سے دو روز پہلے ملک میں داخل ہوا تھا۔ترک حکام نے اس سے پہلے گولن کے عزیزوں میں ایک اور شخص کو بھی گرفتار کیا تھا۔

ترکی نے ہفتے کے روز تحقیقات کی خاطر حراست میں رکھنے کی مدت بڑھا کر 30 روز کردی ہے جب کہ ملک میں 2000 سے زیادہ اداروں کو تحلیل کیا جاچکا ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی اناضول کے مطابق 15 جولائی سے اب تک 12500 سے زیادہ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا۔ مذکورہ ذریعے ہی نے بتایا ہے کہ تقریبا 5600 فوجیوں ، ججوں ، پولیس اہل کاروں ، شہریوں ، اساتذہ اور ملازمین کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

اسی طرح ناکام انقلاب کی کوشش کے بعد 1043 تعلیمی اداروں ، 15 جامعات ، 1229 سوسائٹیز اور فاؤنڈیشنز اور 19 انجمنوں کی بندش عمل میں آ چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں