.

شاہ سلمان کی میونخ میں مجرمانہ قتل عام کی شدید مذمت

سعودی قیادت کی جرمن چانسلر سے یکجہتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے جرمنی کے شہر میونخ میں گذشتہ روز فائرنگ کے نتیجے میں ایک درجن کے قریب افراد کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مجرمانہ قرار دیتے ہوئے جرمن حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے نام ایک برقی پیغام میں میونخ شہر میں ایک جنونی شخص کی فائرنگ کے نتیجے میں 10افراد کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

خادم الحرمین الشریفین نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’ہمیں یہ سن کر گہرا دکھ اور صدمہ پہنچا ہے کہ جمہوریہ جرمنی کے سیاحتی شہر میونخ میں ایک مسلح دہشت گرد نے نہتے شہریوں پر فائرنگ کر کے کئی افراد کوقتل اور زخمی کیا ہے۔ ہم اس مجرمانہ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جرمن حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمیں دکھ ہے کہ ایک دہشت گرد نے دوست ملک جرمن کی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور جرمن شہریوں کا قتل عام کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔ دہشت گردی کے قابل مذمت واقعے کے نتیجے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے شہری اور ان کے لواحقین بھی ہمدردی کے مستحق ہیں۔

سعودی عرب متقولین کے لواحقین اور زخمیوں کے ساتھ بھی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا ہے‘۔ شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا کسی مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اسلام اس طرح کے واقعات کی شدید مذمت کرتا ہے۔ کوئی قانون اور آسمانی مذاہب اس طرح کی دہشت گردی کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف بن عبدالعزیز اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے بھی جرمنی میں دہشت گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دونوں رہ نماؤں نے جرمن چانسلر کے نام اپنے الگ الگ تعزیتی پیغامات میں میونخ میں فائرنگ کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مشکل کی گھڑی میں برلن کا ساتھ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ سعودی ولی عہد اور نائب ولی عہد نے توقع ظاہر کی کہ میونخ میں دہشت گردی کے واقعے سے جرمنی کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو کمزور نہیں کیا جا سکتا ہے۔