.

امریکا : فلوریڈا میں نائٹ کلب میں فائرنگ ، 2 افراد ہلاک ،17 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ریاست فلوریڈا میں واقع شہر فورٹ مائیرز میں ایک نائٹ کلب میں فائرنگ سے دو نوعمر لڑکے ہلاک اور سترہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

فوری طور پر تشدد کے اس واقعے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔البتہ فورٹ مائرز پولیس کے کپتان جیم ملیگن کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ دہشت گردی کی کارروائی نہیں ہے۔ پولیس نے واقعے میں ملوّث ہونے کے شبے میں تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور ان سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔

فورٹ مائرز کے محکمہ پولیس نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ کلب بلو کے پارکنگ ایریا میں فائرنگ کا یہ واقعہ سوموار کو علی الصباح اور مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے بارہ بجے( ایسٹرن ٹائم،ای ٹی) پیش آیا تھا۔

مقامی ٹیلی ویژن چینلز نے اطلاع دی ہے کہ کلب میں نوعمروں کی ایک پارٹی ''ٹین نائٹ'' کے نام سے منعقد کی جارہی تھی۔ کلب بلو نے اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا ہے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا تھا جب کلب کو بند کیا جارہا تھا اور والدین اپنے بچوں کو لے کر واپس گھروں کو جارہے تھے۔اس نے کلب کے باہر مسلح محافظ موجود ہونے کی بھی اطلاع دی ہے۔

پولیس کے مطابق مرنے والے ایک لڑکے کی عمر چودہ سال اور دوسرے مقتول کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ایک مقامی اسپتال لی میموریل ہیلتھ سسٹم کی خاتون ترجمان چیرل گارن کا کہنا ہے کہ تین زخمی ابھی تک زیرعلاج ہیں اور باقی تمام افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا ہے۔زخمیوں کی عمریں بارہ سے ستائیس سال کے درمیان تھیں۔

ریاست فلوریڈا کے آن لائن ریکارڈ کے مطابق 7 جون کو کلب بلو کا شراب کا لائسنس منسوخ کردیا گیا تھا۔یہ فیصلہ کلب میں ایک سال قبل رونما ہونے والے واقعے کے پیش نظر کیا گیا تھا۔اسی ریکارڈ کے مطابق کلب کے خلاف 2014ء میں ایک ''مجرمانہ سرگرمی'' سے متعلق ایک درخواست دائر کی گئی تھی۔اس پر کلب کو سرکاری نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا۔

فورٹ مائرز کے اس نائٹ کلب میں فائرنگ کا یہ واقعہ ریاست فلوریڈا ہی کے ایک اور شہر اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کے ایک نائٹ کلب میں ایک مسلح شخص کی اندھا دھند فائرنگ کے چھے ہفتے کے بعد پیش آیا ہے۔اس نائٹ کلب میں فائرنگ سے انچاس افراد ہلاک اور تریپن سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔

امریکا کی جدید تاریخ میں فائرنگ کا یہ بدترین واقعہ تھا۔یہ حملہ ایک افغان نژاد امریکی شہری عمر ایس متین نے کیا تھا۔اس کو خصوصی فورسز کے دستوں نے موقع پر ہی گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت جاری نہیں کیا تھا۔