.

جرمنی:شامی پناہ گزین کے چھری سے حملے میں خاتون ہلاک

پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی پولیس نے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ اتوار کو ملک کے جنوب مغربی شہر ’روٹلینگن‘ میں تیز دھار آلے کے وار سے ایک خاتون کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس واقعے میں ایک شامی پناہ گزین ملوث ہے مگر یہ دہشت گردی نہیں بلکہ جذباتی نوعیت کا جرم تھا۔ دوسری جانب چھرے کے وار کر کے ایک خاتون کو ہلاک اور دو افراد کو زخمی کرنے والے اکیس سالہ شامی شہری کی گرفتاری کی ویڈیو فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی ہے۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق جرمنی کی مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ’روٹلینگن‘ میں چھری کے وار سے خاتون کے قتل کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک خاتون اور ایک مرد کے درمیان کسی بات پر تو تکرار ہوگئی تھی۔ یہ دہشت گردی کا واقعہ نہیں تھا بلکہ جذباتی اشتعال کے نتیجے میں کیا جانے والا جرم ہے۔

جرمن ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ قاتل اور مقتولہ ایک دوسرے کے کافی قریب تھے اور دونوں ایک ہی جگہ کام بھی کرتے تھے۔

قبل ازیں بھی جرمن پولیس نے کہا تھا کہ تحقیق سے یہ بات ثابت نہیں ہوسکی کہ آیا روٹلیگن میں ایک بس اسٹیشن کے قریب خاتون کا قتل دہشت گردی کی کارروائی تھی۔ خیال رہے کہ شہر کی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ ہے، جہاں شام اور دوسرے ملکوں سے آئے پناہ گزین بھی شامل ہیں۔

پولیس نے ایک خاتون کو ہلاک اور دو کو زخمی کرنے والے شخص کو حراست میں لیا جس کی عمر 21 سال بتائی گئی ہے اور وہ شامی پناہ گزین ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اس سے قبل بھی اس طرح کی خطرناک سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔

اتوار کے روز پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک شامی شخص نے مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چار بجے ریوٹلنگن شہر کے مرکزی بس اسٹیشن پر دو خواتین اور مرد پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں زخمی ہونے والی ایک خاتون جاں بحق ہوگئی۔