.

جرمنی: ہوٹل پر بم حملے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی

میونخ حملے کے شبے میں افغان لڑکا گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کے مقامی ذرائع ابلاغ نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ انسباخ شہر میں نورمبرگ کے قریب ایک ہوٹل پر دستی بم پھینکا گیا جس کے نتیجے میں کم سے کم ایک شخص ہلاک اور 10 زخمی ہوئے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق جرمن پولیس کے ترجمان کے مطابق ہوٹل پر حملے میں 10 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں علاج کے لیے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

انسباخ بلدیہ کے چیئرمین نے بھی ہوٹل پر بم حملے کی تصدیق کی ہے۔ ادھر جرمن وزارت داخلہ کے ترجمان نے باواریا ریاست میں ایک پریس بیان میں کہا کہ ہوٹل پر حملہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک دانستہ کارروائی تھی۔ قبل ازیں جرمن پولیس نے ملک کے جنوب مغربی شہر ریوٹلنگن میں ایک اکیس سالہ شامی پناہ گزین کو حراست میں لیا ہے جس پر چھری کے ذریعے ایک خاتون کو ہلاک اور دو افراد کو زخمی کرنے کا الزام ہے۔ تازہ واقعات ایک ایسے وقت میں رونما ہوئے ہیں جب گذشتہ جمعہ کو 18 سالہ ایک افغانی نژاد نوجوان نے میونخ کے تجارتی مرکز پرحملہ کرکے 9 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔

میونخ حملے کے شبے میں افغان لڑکے کی گرفتاری

العربیہ کے نامہ نگار نورا لدین الفریضی نے بتایا ہے کہ جرمن پولیس نے ایک 16 سالہ افغان لڑکے کو حراست میں لیا ہے جسے میونخ میں دہشت گردی کی کارروائی کرنے والے افغان نوجوان کا دوست بتایا جاتا ہے۔ اطلاعات کےمطابق میونخ میں گذشتہ جمعہ کے روز فائرنگ کے واقعے میں یہ لڑکا بھی ملوث ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افغان لڑکے کی عمر 16 سال ہے اور اس کے میونخ میں حملہ آور کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کم عمر افغان ملزم کو اس کے دوست کی جانب سے فائرنگ کی منصوبہ بندی کا علم تھا مگر اس نے اسے خفیہ رکھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں شبہ ہے کہ حراست میں لیا گیا سولہ سالہ افغان لڑکا جمعہ کے روز میونخ میں دہشت گردی کی واردات میں ضمنی طور پر ملوث ہے۔

خیال رہے کہ جمعہ کے روز میونخ کے ایک مصروف تجارتی مرکز کے قریب ایک ایرانی نژاد اکیس سالہ نوجوان نے اندھا دھند فائرنگ کرکے نو افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ ملزم نے بعد ازاں کچھ فاصلے پر جا کر خود کو گولی مار کر خود کشی کرلی تھی۔