.

ترکی : 42 صحافیوں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری ، 15 گرفتار

آئی پی آئی کا ترکی میں صحافیوں کے خلاف تادیبی کارروائیوں اور گرفتاریوں پر اظہارِ تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں حکام نے بیالیس صحافیوں کے خلاف 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت سے تعلق کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں اور ان میں سے پندرہ کو گرفتار کر لیا ہے۔

جن صحافیوں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں،ان میں معروف صحافیہ اور سابق رکن پارلیمان نازلی ایلجیک بھی شامل ہیں۔انھیں 2013ء میں بدعنوانیوں میں ملوث ترک وزراء پر تنقید کی پاداش میں حکومت نواز روزنامے صباح سے فارغ کردیا گیا تھا۔ سوموار کی صبح جینڈر میری ،پولیس اور ساحلی محافظوں نے جنوبی صوبے مگلہ میں واقع ضلع بودرم میں نازلی ایلجیک کی گرفتاری کے لیے ان کی قیام گاہ پر چھاپا مار کارروائی کی تھی لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھیں۔

صحافیوں کے خلاف یہ وارنٹ گرفتاری استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کے تحت دہشت گردی اور منظم جرائم بیورو نے جاری کیے ہیں۔ان بیالیس صحافیوں پر الزام ہے کہ ان کا بھی علامہ فتح اللہ گولن کی تحریک سے تعلق ہے۔ترک حکومت اسی تحریک کو ناکام فوجی بغاوت کا ذمے دار ٹھہرا رہی ہے۔

مگر بعض صحافیوں نے گولن تحریک سے کسی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔ایک صحافی بلند مومے نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ''میں صرف ایک ہی تنظیم کا رکن ہوں اور وہ ترک صحافتی تنظیم ہے۔میرا واحد پیشہ صحافت ہے''۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا بیان قلم بند کرانے کے لیے پراسیکیوٹر کے دفتر میں جائیں گے۔

فہرست میں فاکس ٹی وی کے نیوز ڈائریکٹر ایرجن غون کا نام بھی شامل ہے۔ان کا بھی کہنا ہے کہ وہ بھی بیان قلم بند کرانے کے لیے جائیں گے۔انھوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ''مجھے ہنگامی حالت کے دوران بھی قانون پر اعتماد ہے''۔

ترکی کی دوغان نیوز ایجنسی کے مطابق ان میں سے چودہ صحافیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور گیارہ اس وقت بیرون ملک ہیں۔ان میں سے آٹھ 15 جولائی کے بعد ترکی سے باہر گئے تھے اور تین ناکام فوجی بغاوت برپا ہونے سے قبل ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

درایں اثناء انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) نے ترکی میں صحافیوں کے خلاف وارنٹ گرفتاری کے اجراء اور ان کی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ترکی کے بین الاقوامی شراکت داروں سے کہا ہے کہ ''وہ جمہوریت کی بقاء کے نام پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں نہ موند لیں اور مطلق العنانیت کا راستہ روکنے کے لیے کچھ کریں ،ورنہ پورا خطہ ہی عدم استحکام سے دوچار ہوگا''۔

ترکی میں صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوّث فوجیوں ،سرکاری ملازمین ،عدلیہ کے ارکان اور عام افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک ہزاروں افراد کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کیا جاچکا ہے۔تاہم صحافیوں کے خلاف پہلی مرتبہ وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں اور ان کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔