.

حوثی مخالفین کے گھروں کو دھماکوں سے کیوں اڑاتے ہیں؟

در بہ در کی ٹھوکریں کھاتے حوثی لیڈر مخالفین کو بھی گھروں سے محروم کرنا چاہتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حکومت کے خلاف سرگرم عمل ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے مخالفین کے مکانوں کو دھماکوں سے اڑائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق سوموار کے روز وسطی یمن کی ’اب‘ گورنری میں حزم العدین ڈاریکٹوریٹ میں شہریوں کے مزید کئی مکانوں کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق حوثی باغیوں نے حزم العدین کے مقام پر کم سے کم تین گھروں کو دھماکوں سے زمین بوس کیا ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ دو برسوں کے دوران حوثی باغی اور ان کے حامی صالح ملیشیا کے جنگجوؤں نے حکومت کی حامی شخصیات کے 500 گھر دھماکوں سے اڑائے ہیں۔

سنہ 2014ء میں حوثی باغیوں اور علی صالح ملیشیا نے مشترکہ کارروائی کے دوران عمران گورنری میں خمر کے مقام پر واقع حکومت کے حامی حاشد قبیلے کے سردار الشیخ عبداللہ بن حسین الاحمر کی رہائش گاہ کو بارود سے تباہ کردیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثی شدت پسندوں کی طرف سے مخالفین کے گھروں کو مسمار کرنے کے فلسفے کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔ آج سے ایک ہزار سال قب الھادی الرسی نامی ایک شیعہ لیڈر کی یمن آمد کے بعد امامیہ فرقے کی طرف سے مخالفین کے گھروں کو تباہ کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ممتاز تجزیہ نگار مجیب عبدالوھاب نے کہا کہ دو حاضر میں حوثیوں کی طرف سے مخالفین کے گھروں کو مسمار کرنے کی بنیادی وجہ ’انتقام‘ ہے۔ چونکہ گذشتہ دو برسوں سے حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی اور ان کے کئی سرکردہ ساتھی غاروں میں چھپتے پھرتے ہیں۔ اس لیے وہ نہیں چاہتے کہ حکومت کے حامی گھروں میں آرام وسکون کے ساتھ رہ سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے پیرکار شدت پسندوں کو مخالفین کے گھروں کو دھماکوں سے اڑانے کی ترغیب دیتے ہیں۔

عبدالوھاب نے مزید کہا کہ سنہ 2014ء کے بعد حوثی لیڈر کا کوئی معقول ٹھکانہ نہیں ہے۔ وہ کبھی غاروں میں پناہ لیتے ہیں اور کھی پہاڑوں میں چھپتے پھرتے ہیں۔ انہیں کئی بار صعدہ کے پیچیدہ پہاڑی سلسلے کی غاروں میں اپنے ٹھکانے بدلتے دیکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو بھی ان کے گھروں سے محروم کرنے کی سازش پرعمل پیرا ہیں۔ جس طرح حوثی لیڈر در بہ در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مخالفین بھی گھروں میں نہ رہیں۔