.

سعودی سفارت خانہ حملہ کیس،ملزمان کی سزا میں تخفیف کا فیصلہ

بلوائیوں کی سعودی عرب کی پالیسیوں پر ’برہمی‘ درست تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپریم جوڈیشل کونسل نے گذشتہ برس تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر حملے میں ملوث عناصر کی سزا کے معاملے میں ’ہاتھ ہلکا‘ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران سپریم جوڈیشل کونسل کے ترجمان غام حسین محسنی ایجی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عدالت ملزمان کے سعودی سفارت خانے اور قونصل خانے پر حملے کو سعودی عرب کی پالیسیوں کے تناظر میں دیکھتی ہے۔ اگر سعودی عرب کی ایران مخالف پالیسیوں کو مد نظر رکھا جائے تو شہریوں کا غصہ بجا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں حج کے موقع پر بھگدڑ کے نتیجے میں حجاج کرام کی ہلاکتوں کے معاملے پر سعودی حکومت نے ایران کو خواہ مخواہ بدنام کرنے کی مہم شروع کررکھی تھی جس پر ایرانی عوام میں سخت رد عمل اور غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہونے سے قبل شرپسندوں کی بڑی تعداد نے تہران میں سعودی سفارت خانے کا گھیراؤ کرنے کے بعد سفارت خانے کی عمارت کو آگ لگا دی تھی۔ اسی طرح مشہد شہر میں بھی سعودی قونصلیٹ پر حملے کرکے دفاتر میں توڑپھوڑ اور عملے کو زدو کوب کیا گیا تھا۔ ان واقعات کے بعد سعودی عرب سمیت کئی دوسرے عرب ملکوں نے تہران سے سفارتی تعلقات توڑ لیے تھے۔

ایران کی حکومت نے سفارت خانے پر حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلانے کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے اور بہ ظاہر ان کا ٹرائل بھی جاری ہے۔ مگر جوڈیشل کونسل کے ترجمان کے بیان سے تہران سرکاری کی نیت میں موجود ’فتور‘ بھی سامنے آگیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق تہران میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر محسنی ایجی نے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے سعودی سفارت خانے پر حملہ کرنے والے ملزمان کو بچانے کی بھی کوشش کی اور کہا کہ جن لوگوں نے سعودی سفارت خانے پر دھاوا بولا ان کے غم وغصے کے اسباب کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ سب کچھ سعودی عرب کی ایران مخالف پالیسیوں پر ردعمل میں کیا تھا۔ اس لیے عدالت انہیں سزا دینے میں ’ہاتھ ہولا‘ رکھے گی۔

سعودی سفارت خانے اور قونصل خانے پرحملہ کیس کی سماعت 18 اور 19 جولائی کو بھی کی گئی تھی۔ اس موقع پر 21 گواہوں کے بیانات بھی قلم بند کیے گئے تھے۔ ایرانی پولیس نے ایک 25 سالہ نوجوان کو سعودی سفارت خانے پر یلغار کا ماسٹر مائینڈ قرار دیا ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ملبوسات کی ایک دکان چلاتا ہے۔ ملزم نے سعودی سفارت خانے میں آگ لگانے کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔