.

فرانس : چرچ پر حملہ، پادری کا قتل، داعش نے ذمے داری قبول کر لی

چرچ میں پانچ افراد کو یرغمال بنانے والے دونوں حملہ آور پولیس کی کارروائی میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش نے فرانس کے شمالی علاقے نارمنڈی میں واقع ایک قصبے میں چرچ پر حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔داعش کے دو حملہ آوروں نے چرچ میں یرغمال بنائے گئے پادری کو تیزدھارآلے سے قتل کردیا ہے جبکہ پولیس کی جوابی کارروائی میں دونوں حملہ آور مارے گئے ہیں۔

ان دونوں حملہ آوروں نے منگل کی صبح نارمنڈی میں واقع شہر روئن کے نزدیک قصبے سینٹ ایتین دورووغے میں رومن کیتھولک کے ایک چرچ پر دھاوا بول کر پانچ افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ان میں سے پادری کا تیز دھار آلے سے گلہ کاٹ دیا اور ایک یرغمالی کو شدید زخمی کردیا تھا۔پولیس نے جوابی کارروائی میں دونوں حملہ آوروں کو ''ٹھنڈا'' کردیا ہے اور یرغمالیوں کو بازیاب کرالیا ہے۔ان میں دو ننیں بھی شامل تھیں۔

فرانسیسی پولیس کے مطابق دونوں حملہ آور تیز دھار چاقوؤں سے مسلح تھے۔فوری طور پر حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے گرجاگھر پر حملے کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے ہیں۔داعش سے وابستہ اعماق نیوز ایجنسی نے ایک بیان میں فرانسیسی چرچ پر اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس واقعےکی اطلاع ملتے ہی فرانسیسی صدر فرانسو اولاند اور وزیر داخلہ برنارڈ کازینیوف بھی اس قصبے میں پہنچ گئے۔انھوں نے کہا کہ چرچ میں لوگوں کو یرغمال بنانے والے دونوں حملہ آور دہشت گرد تھے اور انھوں نے داعش کی بیعت کررکھی تھی۔

انھوں نے جائے وقوعہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ''داعش نے ہمارے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے۔ہمیں اس جنگ کو قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہوئے تمام ذرائع سے لڑنا ہے کیونکہ قانون کی حکمرانی ہی ہمیں ایک جمہوریت بناتی ہے''۔

روئن کے آرچ بشپ نے مقتول پادری کی شناخت فادر ژاک حمل کے نام سے کی ہے۔ان کی عمر چھیاسی سال تھی۔ ویٹی کن نے چرچ میں پادری کی ہلاکت کی مذمت کی ہے اور اس کو سفاکیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اس سے بھی زیادہ سنگین اور اندوہناک ہے کیونکہ یہ خون ایک مقدس جگہ پر ہوا ہے۔

فرانس میں یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پورے ملک میں 14 جولائی کو نیس شہر میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد سے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔نیس میں حملہ آور نے اپنا ٹرک قومی دن کی ایک تقریب کے لیے جمع لوگوں پر چڑھا دیا تھا اور ان پر فائرنگ بھی کی تھی جس کے نتیجے میں چوراسی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔فرانس میں گذشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردی کا یہ تیسرا بڑا واقعہ تھا۔عراق اور شام میں برسرپیکار داعش نے نیس میں دہشت گردی کے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

وزیر داخلہ کازینوف کو باسٹیل ڈے کے موقع پر اس حملے کو روکنے میں ناکامی پر قدامت پسند سیاست دانوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔اس حملے کے بعد فرانسیسی پارلیمان نے ملک میں نافذ ایمرجنسی کی مدت میں چھے ماہ کی توسیع کی منظوری دی تھی جبکہ سوشلسٹ حکومت نے کہا تھا کہ داعش کے خلاف عراق اور شام میں حملوں میں تیزی لائے گی۔