القدس یونیورسٹی بیت المقدس کے عرب تشخص کے بقاء کی علامت

جامعہ القدس بھی صہیونی ریاست کی انتقامی پالیسیوں کا شکار ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک طرف اسرائیل فلسطین کے عرب شہروں بالخصوص مقبوضہ بیت المقدس کی تاریخی اسلامی اور عرب شناخت مٹانے کے لیے طرح طرح کے مکروہ حربے آزما رہا ہے تو دوسری جانب شہر میں قائم فلسطینی ادارے صہیونی ریاست کی مسلط کردہ ’عبرانیت‘ اور صہیونیت کا پورے عزم کے ساتھ مقابلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ صہیونی کشمکش میں وسائل کی قلت اور مشکلات کے باوجود القدس کے تشخص کے دفاع میں برسرعمل اداروں میں ایک نام ’جامعہ القدس‘ کا بھی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق جامعہ القدس بیت المقدس کی ایک بڑی درسگاہوں میں سے ایک ہے مگر یہ ادارہ بھی صہیونی ریاست کی انتقامی پالیسیوں کا شکار ہے۔ چونکہ جامعہ القدس مقبوضہ بیت المقدس کے قلب میں واقع ہے۔ اس لیے یہ ادارہ شہر مقدس کی اسلامی اور عرب شناخت کے دفاع کے لیےجاری کشمکش میں پیش پیش ہے۔ جامعہ القدس کی جانب سے جہاں فلسطینی طلباء کو تعلیمی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں وہیں صہیونی ریاست کے جبرو تشدد کا بھی مقابلہ کیا جاتا ہے۔

القدس یونیورسٹی کی وائس چیئرپرسن برائے القدس امور ڈاکٹر صفاء ناصر الدین نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے جامعہ کو اسرائیل کی جانب سے درپیش مشکلات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی حکومت کی جانب سے القدس یونیورسٹی کی ڈگری تسلیم نہیں کی گئی ہے۔ اس کے باوجود جامعہ القدس اور کئی دوسرے فلسطینی ادارے القدس کے عرب تشخص کے تحفظ کے لیے اپنی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی انتظامیہ کی طرف سے یونیورسٹی کی عمارت تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ وہ کرائے کے مکانوں میں اپنا نظام چلانے پر مجبورہیں۔

یونیورسٹی کے زیراستعمال ایک پرانی اور بوسیدہ عمارت ممالک کے دور حکومت سنہ 1363ء کی تعمیر کردہ ہے۔ اسی عمارت میں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کے طلباء القدس اسٹڈیز میں تعلیم مکمل کرتے اور سند فراغت حاصل کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں