فرانس کا ’داعش‘ کے خلاف بھرپور جنگ کا اعلان

داعش کو کچلنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے: اولاندے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس کے صدر فرانسو اولاندے نے نارمنڈی کےعلاقے میں واقع ’سینٹ ایتین‘ دو فارغے چرچ میں دہشت گردی کے تازہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے میں دولت اسلامیہ ’داعش‘ کہلوانے والی تنظیم ملوث ہے۔ انہوں نے داعش کے خلاف پوری قوت سے اور تمام وسائل کو استعمال کرتے ہوئے جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

خیال رہے کہ کل منگل کی صبح نارمنڈی میں واقع شہر روئن کے نزدیک قصبے سینٹ ایتین دورووغے میں رومن کیتھولک کے ایک چرچ پر دھاوا دو مشتبہ دہشت گردوں نے دھاوا بول دیا تھا۔ انہوں نے چرچ میں موجود پانچ افراد کو یرغمال بنا لیا۔ ان میں سےایک پادری کا تیز دھار آلے سے گلہ کاٹ دیا گیا اور ایک یرغمالی کو شدید زخمی کردیا تھا۔پولیس نے جوابی کارروائی میں دونوں حملہ آوروں کوقتل کردیا ہے اور یرغمالیوں کو بازیاب کرالیا ہے۔

اس واقعے کے بعد صدر اولادن متاثرہ چرج میں آئے، جہاں انہوں نے شہریوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "تازہ دہشت گردی میں کیتھولک کو نشانہ بنایا گیا ہےمگر فرانسیسی عوام جانتے ہیں کہ اس طرح کی کارروائیوں سے کیسے نمٹنا ہے" انہوں نے 14 جولائی کو نیس حملے کی کاری ضرب سہنے والی فرانسیسی عوام پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف متحد رہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی دہشت گرد گروپ کو فرانسیسی شہریوں کو خوف زدہ کرنے کی سازش تیار کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔

صدر اولاند کہہ رہے تھے کہ داعش نے ہمارے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔ ہم بھی جواب میں داعش کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے پوری قوت سے یہ جنگ لڑی جائے گی۔ ہم قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے دفاع کے لیے ہرممکن اقدام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اندرون اور بیرون ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔

صدر فرانسو اولاند نے کہا کہ دہشت گردی کی چھوٹی چھوٹی کارروائیاں ہمارے عزم وارادے کو شکست نہیں دے سکتیں۔ فرانس اور پورا یورپ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں باہم متحد ہے اور ہم نے دہشت گردی کی لعنت سے نجات کے لیے عزم صمیم کررکھا ہے۔

انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف قوانین مزید سخت کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا اور کہا کہ سنہ 2015ء میں دہشت گردی کی بیخ کنی کے لیے منظور کردہ قوانین میں سیکیورٹی حکام کو فوری متحرک ہونے کے اختیارات دیے گئے ہیں۔

ادھر فرانسیسی زیراعظم مانویل فالس نے اپنے ایک بیان میں چرچ حملے پر رد عمل میں کہا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ اس طرح کی کارروائیوں کا اصل مقصد مذہبی جنگ چھیڑنے کی سازش ہے۔ دشمن فرانسیسی عوام کو آپس میں لڑانے اور مذہبی جنگ مسلط کرنے کی سازش کررہا ہے مگر اسے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں