ہلیری کلنٹن صدارتی امیدوار نامزد کر دی گئیں

سابق خاتون اول نامزدگی حاصل کرنے والی پہلی امریکی خاتون ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی ریاست فلاڈیلفیا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے چار روزہ نیشنل کنونشن میں امریکی صدارت کے ڈیموکریٹک امیدوار کی نامزدگی کے لیے ووٹنگ کی گئی، جس کے بعد امریکا کی ڈیمو کریٹک پارٹی نے ہلیری کلنٹن کو صدارتی امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ وہ نامزدگی حاصل کرنیوالی پہلی امریکی خاتون ہیں۔ ووٹنگ کے دوران ہیلری نے 2395 ووٹ حا صل کئے، جبکہ برنی سینڈرز کو 1553 ووٹ ملے۔

مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ڈیلیگیٹس نے ’رول کال‘ کے طریقہٴ کار کے تحت بلند آواز میں ووٹ دیے، ایسے میں جب کنوینشن ہال میں اپنی بیگم کے ہمراہ، سینیٹر برنی سینڈرز نہ صرف موجود تھے بلکہ رول کال کے اختتام پر، سینڈرز نے تجویز دی کہ ’’ضابطہٴ کار کو بالائے طاق رکھ کر اور مزید وقت ضائع کیے بغیر، ہیلری کلنٹن کی نامزدگی کا اعلان کیا جائے۔‘‘

امریکی صدارتی نامزدگی کی کنوینشن اور اسٹیٹ ڈیلیگیٹس کی قدیم روایت کو مد منظر رکھتے ہوئے، فلاڈیلفیا میں ڈیموکریٹک پارٹی کا چار سالہ اجتماع جاری رہا، جس میں باضابطہ رائے دہی کے ذریعے، کلنٹن کو نامزد کیا گیا۔ ذرائع ابلاغ پر براہ راست دکھائی جانے والی اس رول کال کارروائی میں دلچسپی رکھنے والوں کی نگاہیں امریکی سیاسی منظر نامے پر لگی رہیں۔

پیر کی شام گئے کنوینشن کے پہلے روز اپنے خطاب میں، انتخابی مہم کے دوران کئی ماہ تک کلنٹن کے مدِ مقابل رہنے والے ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرز نے اپنے حامیوں سے کہا کہ اُنھیں ووٹ دیا جائے، ’’لیکن، میں ہیلری کے ساتھ ہی کھڑا ہوں‘‘۔ اپنی تقریر میں اُنھوں نے جوش و جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلنٹن کی حمایت کا اعلان کیا، جس سے یہ بات واضح ہوئی کہ پارٹی متحد ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کا ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ سے مقابلہ ہے۔ جائیداد کے نامور ارب پتی کاروباری فرد، ٹرمپ کو گذشتہ ہفتے اُن کی پارٹی نے باضابطہ طور پر امیدوار نامزد کیا۔

پیر کی شام ہیلری کی نامزدگی پختہ ہونے کے بعد، اُن کے شوہر بِل کلنٹن، جو 1990ء کی دہائی میں امریکا کی قیادت کرتے رہے ہیں، منگل کی شام گئے کنونشن سے خطاب کریں گے جس میں وہ امریکیوں کو بتائیں گے کہ آٹھ نومبر کے قومی انتخاب میں ہیلری کو ووٹ دینا کیوں ضروری ہے۔

اپنی بیوی کی حمایت کا حصول پیچیدہ معاملہ ہے؛ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کا ترقی پسند حلقہ جو سینڈرز کا حامی ہے وہ بیالیسویں صدر کی کامیابیوں کو نہیں مانتا، جن میں آزاد تجارت کی حمایت اور سنگین جرائم کے سلسلے میں نظام انصاف میں اصلاحات کا معاملہ شامل ہے، جب کہ نوے کے عشرے میں تشکیل پانے والی پالیسیوں کے نتیجے میں متعدد افراد، جن میں خاص طور پر نسلی اقلیتیں شامل ہیں، بڑے عرصے تک قید و بند کاٹتی رہیں۔

ہیلری کلنٹن کو ٹرمپ کے ساتھ کانٹے کے مقابلے کا سامنا ہو گا۔ رائے عامہ کی کئی جائزہ رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ فی الوقت ٹرمپ کو اُن کے مقابلے میں تھوڑی سی سبقت حاصل ہے، جس کا سبب ری پبلیکن کے حالیہ کنوینشن کے دوران چار راتوں کی تقاریر میں کلنٹن کو ہدفِ تنقید بنایا جانا بتایا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں