موگادیشو دھماکوں کا ایک حملہ آور سابق رکن پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حرکت شباب مجاہدین تنظیم کی ویب سائٹ پر ایک صوتی ریکارڈنگ جاری کی گئی ہے جو موگادیشو ایئرپورٹ کے قریب حساس مقامات پر خودکش حملہ کرنے والوں میں سے ایک شخص کی ہے۔ یہ شخص صومالی پارلیمنٹ کا سابق رکن صالح نوح اسماعیل عرف "صالح بدبادو" ہے۔

صوتی ریکارڈنگ میں 57 سالہ صالح بدبادو کا کہنا ہے کہ وہ اس "مبارک" کارروائی کے ذریعے اللہ کی رضا چاہتا ہے اور اس نے کفار (صومالی حکومتوں کی جانب اشارہ) کے ساتھ کام سے توبہ کر لینے کے بعد یہ راستہ اختیار کیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق سابق رکن پارلیمنٹ نے ایک ٹرک کے ذریعے منگل کے روز سکیورٹی چیک پوسٹ کو توڑتے ہوئے اقوام متحدہ کے ایک کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا۔ کارروائی میں 13 افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت کمپاؤنڈ کے محافظین کی ہے۔

دوسرا حملہ ایک نوجوان نے اسی سیکورٹی چیک پوسٹ پر کیا۔ نوجوان کی گاڑی فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں وہ اپنے ہدف پر پہنچنے سے پہلے دھماکے سے تباہ ہو گئی۔

صالح نوح اسماعيل 1960 میں صومالیہ کے شمال میں پیدا ہوا۔ اس نے سابقہ فوجی حکومت کے ساتھ کام کیا۔ بعد ازاں اسے شمالی محاذوں سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ مذکورہ محاذوں نے گزشتہ صدی میں اسّی کی دہائی کے اواخر میں صدر سیاد بری کے خلاف بغاوت کی تھی۔

صومالیہ میں خانہ جنگی کے بعد پہلی عبوری حکومت کی تشکیل کے بعد وہ 2000ء میں جیبوتی میں قائم کی جانے والی عبوری پارلیمنٹ کا رکن بن گیا۔ وہ فروری 2010 تک اپنے عہدے پر فائز رہا۔ اس کے بعد پارلیمنٹ سے علاحدہ ہو کر حرکت شباب مجاہدین سے جا ملا جس کو دارالحکومت موگادیشو کے کئی حصوں پر کنٹرول حاصل تھا۔

خود کو حرکت شباب کے حوالے کرنے کے بعد سے صالح میڈیا سے غائب ہو گیا۔ آج حیران کن طور پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ منگل کے روز موگادیشو میں ہونے والے دو خودکش حملے کرنے والوں میں ایک صالح تھا۔

حرکت شباب مجاہدین کے زیرانتظام ریڈیو الاندلس کا کہنا ہے کہ تنظیم میں شامل ہونے کے بعد سے صالح نے شرعی کورسز کیے اور متعدد منصبوں پر کام کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں