.

حوثیوں اور علی صالح کی جماعت کے درمیان ملک چلانے کے لیے نیا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت ملک چلانے کے لیے ایک کونسل تشکیل دی جائے گی۔

حوثیوں کے زیرانتظام سرکاری نیوز ایجنسی سبا نیوز ڈاٹ نیٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق دونوں گروپوں نے جمعرات کو اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔اس کے تحت کونسل کے صدر اور نائب صدر کا باری باری ایک مخصوص مدت کے لیے انتخاب کیا جائے گا۔ یہ دونوں عہدے دار اس کونسل کی قیادت کریں گے۔

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے اس پیش رفت کوحوثیوں کی جانب سے ایک اور بغاوت قرار دیا ہے۔انھوں نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ اس نئے اقدام کے خلاف کردار ادا کریں۔

حوثی تحریک اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کی جانب سے نئی صدارتی کونسل کے قیام کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کویت میں یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں لیکن اپریل سے جاری ان مذاکرات میں بحران کے حل کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور نہ مستقبل قریب میں ایسے کوئی آثار نظر آرہے ہیں۔

اپریل سے ہی حوثیوں اور صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز کے درمیان یمن کے تمام شورش زدہ علاقوں میں جنگ بندی کا سمجھوتا طے پایا تھا لیکن اس کے بعد سے متعدد مرتبہ اس کی خلاف ورزی ہوچکی ہے۔

کویت میں حوثیوں کے وفد اور یمنی حکومت کے وفد کے درمیان اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد کی ثالثی میں جاری مذاکرات نشستند ،گفتند اور برخواستند ہی ثابت ہورہے ہیں۔حوثی وفد اس بات چیت کو وقت گزاری کے لیے استعمال کررہا ہے۔حوثی اور ان کے اتحادی صنعا سمیت اپنے زیر قبضہ علاقوں کو خالی کرنے کو تیار نہیں ہیں جبکہ یمنی وفد ان سے صنعا اور شمالی صوبوں سے انخلاء اور ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کررہا ہے۔