.

لیبیا میں جاری تعطل کے خاتمے کے لیے مصر کی میزبانی میں مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خانہ جنگی کا شکار لیبیا میں جاری سیاسی تعطل دور کرنے کے لیے مصر اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی میزبانی کررہا ہے۔ان میں لیبیا کے متحارب دھڑوں سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ سیاسی اور عسکری شخصیات شرکت رہی ہیں۔

لیبیا میں اقوام متحدہ کی ثالثی کے نتیجے میں قائم ہونے والی قومی اتحاد کی حکومت کے سربراہ فائزالسراج نے قاہرہ میں گذشتہ دو روز کے دوران لیبی پارلیمان کے سربراہ عقیلہ صالح سے بحران کے خاتمے کے لیے بات چیت کی ہے۔عقیلہ صالح جمعرات کی شب عرب لیگ کے سربراہ سے بھی ملاقات کرنے والے تھے۔

مشرقی شہر بن غازی (پہلے طبرق؟) میں عقیلہ صالح کی سربراہی میں قائم پارلیمان کے تر جمان عبداللہ بہلک کا کہنا ہے کہ کئی مہینوں کے بعد دونوں رہ نماؤں کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہے اور انھوں ںے طرابلس اور طبرق میں دو متوازی پارلیمانوں کے وجود میں آنے کے بعد براہ راست چینل کھولنے پر غور کیا ہے۔

لیبیا کے طاقتور جنرل خلیفہ حفتر نے صالح اور فائزالسراج کے نائبین سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔خلیفہ حفتر کو مشرقی پارلیمان کی حمایت حاصل ہے اور مصر نے بھی مشرقی لیبیا میں اسلامی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں ان کی حمایت کی تھی۔مصر نے گذشتہ دو سال کے دوران ان کے تحت فوج کو تربیت ،ہتھیار اور فوجی سازوسامان مہیا کیا ہے۔

واضح رہے کہ جنگ زدہ ملک میں 2014ء سے دو متوازی حکومتیں اور پارلیمان قائم ہیں۔طرابلس میں پہلے اسلامی جنگجو گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کے تحت حکومت تھی۔اس کا لیبیا کے مغربی شہروں پر کنٹرول تھا۔دسمبر میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں فائزالسراج کی سربراہی میں اس کی جگہ ایک نئی حکومت تشکیل پائی تھی۔

دوسری جانب لیبیا کے مشرقی شہروں میں وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت تھی اور اس کو عقیلہ صالح کی سربراہی میں نیشنل کانگریس ( منتخب قومی اسمبلی) کی حمایت حاصل رہی ہے۔اس اسمبلی کو بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔

تاہم اس نے قومی حکومت کی ابھی تک توثیق نہیں کی ہے جس کی وجہ سے ملک میں ایک تعطل پیدا ہوگیا ہے۔اس پارلیمان کو اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے شدہ معاہدے کی ایک دفعہ پر سب سے زیادہ اعتراض ہے۔اس کے تحت پارلیمان کو فوج پر اتھارٹی سے محروم کردیا گیا ہے۔

قاہرہ میں ملاقاتوں سے قریبی جانکاری رکھنے والےایک لیبی صحافی عبدالباسط بن حمل کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں یہ طے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ لیبیا کی فوج کی کمان کون کرے گا اور وزارت دفاع کا قلم دان کس کو سونپا جائے گا؟