.

مصری رکن پارلیمنٹ کا گولن کو پناہ کا حق دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری وزیراعظم شریف اسماعیل نے باور کرایا ہے کہ مصری حکام کے پاس اس حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات نہیں ہے کہ ترک حزب اختلاف کی شخصیت فتح اللہ گولن نے مصر سے سیاسی پناہ کا مطالبہ کیا ہے۔

بدھ کے روز وزیراعظم کے صدر دفتر میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس کے دوران شریف اسماعیل نے کہا کہ اگر گولن نے ایسی کوئی درخواست پیش کی تو پہلے اس کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس سے قبل مصری پارلیمنٹ کے ایک رکن عماد محروس نے مصر کے وزیراعظم اور وزیرخارجہ کو ایک فوری پارلیمانی درخواست پیش کی جس میں دونوں شخصیات سے مطالبہ کیا گیا کہ فتح اللہ گولن کو سیاسی پناہ کا حق دیا جائے۔

محروس نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو دیے گئے خصوصی بیان میں کہا کہ گولن اور ان کے حامیوں کو شدید کریک ڈاؤن کا سامنا ہے۔ ترکی کی حکومت ان کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ناکام انقلاب کی منصوبہ بندی کے الزام میں ان کے خلاف عدالتی کارروائی کی جا سکے۔ اس کے علاوہ گولن کو ظالمانہ اقدامات کا بھی نشانہ بننا پڑا ہے جنہوں نے ترکی میں ان کے فلاحی اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔

محروس کے مطابق انہوں نے مصری حکام سے درخواست کی ہے کہ ترکی میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ان تمام عناصر کی میزبانی کی جائے اور ان کو رہنے کی سہولت فراہم کی جائے جن سے ترک صدر ایردوآن انتقام لینے اور ان کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ محروس نے باور کرایا کہ یہ ان لوگوں کا انسانی حق ہے ، ماضی میں بھی مصر نے ایسے قائدین اور حکومت مخالف حزب اختلاف کی شخصیات کی میزبانی کی ہے جن کو اپنے ملکوں میں قتل کے خطرے کا سامنا تھا۔

اسماعیل محروس کا کہنا تھا کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن قانون سے خارج جماعت الاخوان المسلمون کے نام سے ، تمام بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر مصر اور اس کے انقلاب کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔