.

میونخ کا دہشت گرد فارسی نسل پرستی سے متاثر تھا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن حکام کی جانب سے جاری تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ میونخ کا دہشت گرد ایرانی نژاد علي سنبلی عُرف "ڈیوڈ" درحقیقت "عرب اور تُرک معاند فارسی نسل پرستی کے رجحان" سے متاثر تھا۔

جرمن ریڈیو "ڈوئچے ویلے" کے مطابق مقامی اخبار "جرمن فرینکفورٹر" کا کہنا ہے کہ علی سنبلی کا دائیں بازو کے شدت پسند گروپ سے تعلق نہیں تھا تاہم وہ نسل پرست تھا جو ان افکار کا اعلانیہ طور پر حامل تھا اور عربوں اور ترکوں سے شدید کینہ رکھتا تھا۔ اخبار کے مطابق سنبلی اس بات پر بڑا زعم محسوس کرتا تھا کہ وہ بھی نازی سربراہ ایڈولف ہٹلر کی پیدائش کے روز 20 اپریل کو ہی پیدا ہوا ہے۔

اخبار نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سنبلی کے رشتے داروں نے ہی اس کو ہٹلر کی شخصیت کے سحر میں جکڑ دیا تھا۔ بالخصوص وہ ایک ایرانی گھرانے میں پیدا ہوا اور اس کا خیال تھا کہ ایرانی اور جرمن ایک نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ ہے "آریہ" نسل۔

یاد رہے کہ فارسی بان ایرانی گروپوں کی جانب سے نسل پرستی پر مبنی مواد سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے۔ سیاسی جماعتیں بھی اس مواد کو اپناتی ہیں جو خاص طور پر عرب اور اسلام دشمنی پر مبنی ہے۔

نسل پرستانہ ترغیب

رپورٹ کے مطابق جو چیز سنبلی کے جرم کے پیچھے نسل پرستانہ ترغیب ہونے کے امکان کو تقویت دیتی ہے وہ اس کا ناروے کے مشہور قاتل اینڈرس برائیوک کے نسل پرستی کے رجحان سے متاثر ہونا ہے۔ اینڈرس نے پانچ برس قبل 77 افرد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس نے عمارت کی چھت سے فائرنگ کرنے کے بعد مہاجرین کے خلاف چیخ کر کہا کہ "تم لوگ جہنم میں جاؤ۔ میں جرمن ہوں۔ میں یہاں پیدا ہوا ہوں۔ میں تم لوگوں سے نفرت کرتا ہوں۔"

"ڈوئچے ویلے" ریڈیو کے مطابق سنبلی کے ہاتھوں قتل ہونے والے 9 افراد میں سے 6 غیرملکی ہیں جن کی عمرین 14 سے 17 برس کے درمیان ہے۔ دیگر دو افراد کی عمر 19 اور 20 برس کے درمیان ہے۔ مقتولین میں 3 نوجوان ترک نژاد ہیں اور تین کا تعلق کوسوو اور البانیہ سے ہے جب کہ ایک 45 سالہ ترک خاتون بھی ہیں۔

ریڈیو کے مطابق سنبلی عُرف ڈیوڈ کے پاس 300 گولیاں تھیں جس سے ان شکوک کو مزید تقویت ملتی ہے کہ وہ نسل پرستی کی بنیاد پر اجتماعی قتل کی کارروائی ارادہ رکھتا تھا۔

ایرانی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ علی سنبلی کی نسل پرستی سے بھرپور ایرانی ماحول میں پرورش نے اسے اس جرم کے ارتکاب پر مجبور کیا۔

ایرانی نازی پارٹی

نسل پرستی پر مبنی افکار اور تقاریر صرف بیرون ملک ایرانی کمیونٹیز تک محدود نہیں بلکہ ایران کے اندر نمایاں ترین نسل پرست گروپ Pan-Iranist پارٹی ہے۔ یہ 1951ء میں شاہ محمد رضا پہلوی کے دور میں بنائی گئی۔

یہ پارٹی خود کو ایک نازی جماعت شمار کرتی ہے جو فارسی شہنشاہیت کی واپسی اور جرمن نازی نظریات سے متاثر ہو کر آریہ نسل سے یکجا ہونے کی خواہش رکھتی ہے۔ سرکاری طور پر یہ کالعدم جماعت ہے جس کا سربراہ "محسن بزشكبور" ہے۔

عرب کی دشمنی میں مشترک بقیہ تمام فارسی قوم پرستوں کی طرح "پین ایرانسٹ" پارٹی بھی اسلامی عرب فتوحات کو جس نے بعد ازاں ساسانی سلطنت کو ختم کیا، ایران کی تاریخ کا سب بڑا المیہ شمار کرتی ہے اور اس کو اسلام سے پہلے سے چلی آنے والی اپنی تہذیب کے سقوط کا مرکزی سبب قرار دیتی ہے۔ تُرکوں کو فارسیوں کا دوسرا بڑا دشمن اس لیے شمار کیا جاتا ہے کہ سلطنت عثمانیہ کے سامنے ایران پر حکمرانی کرنے والے سلاطین کو بھاری شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ پارٹی ایران کے عرب اکثریتی صوبے الاہواز میں خصوصی طور پر سرگرم ہے۔ ایرانی حکام کی حمایت اور انٹیلجنس کے ساتھ ساز باز کے ذریعے وہ صوبے میں عرب آبادی کے خلاف حکومت کے منصوبوں میں معاونت کررہی ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد علاقے میں آبادی کی تقسیم کا تناسب تبدیل کرنا ہے۔