.

ڈینش قوم پرست جماعت کا مسلمانوں کے ملک میں داخلے پر پابندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈنمارک کی تارکینِ وطن مخالف قوم پرست جماعت ڈینش پیپلزپارٹی نے مسلم ممالک سے آنے والے تارکین وطن پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔یہ جماعت ڈنمارک کی دائیں بازو کی حکومت کی اتحادی ہے اور اس نے یہ مطالبہ اسلامی انتہا پسندوں سے تشدد کے خطرے کے پیش نظر داغا ہے۔

اس جماعت کے ڈپٹی لیڈر سوئرن ایسپرسن نے جمعرات کو ایک ڈینش اخبار برلنگسکے میں شائع شدہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ''مسلم تارکین وطن پر چار سے چھے سال تک ڈنمارک میں داخلے پر پابندی عاید ہونی چاہیے کیونکہ یورپ میں دہشت گردی کے حالیہ حملوں کے بعد ہم ایک وقفہ چاہتے ہیں''۔

اس جماعت کے ایک اور سینیر رہ نما مارٹن ہنریکسن نے ڈنمارک کے ٹی وی 2 چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کے گروپ کا مؤقف ہے۔

دوسری جانب حزب اختلاف سوشل ڈیمو کریٹس نے اس تجویز پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس میں عام مسلمانوں کو اسلامی انتہا پسندوں سے غلط طور پر جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اس جماعت نے اس تجویز کو ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے منصوبے کے مشابہ قرار دیا ہے۔ڈینش حکومت کی جانب سے فوری طور پر اس تجویز پر کسی قسم کے ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔