ترکی: چیف آف اسٹاف کمیٹی کے ارکان اپنے عہدوں پر بدستور قائم

وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں فوجی عہدوں میں تبدیلیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی میں حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد اداروں میں صفائی کی جاری مہم کے جلو میں فوج کی سپریم کونسل نے جنرل خلوصی آکار کو چیف آف اسٹاف کے عہدے پر بدستور برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترک صدر رجیب طیب ایردوان کے ترجمان ابراہیم قالن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم ملٹری کونسل نے جمعرات کے روز ہونے والے اجلاس میں جنرل خلوصی آکار کو مسلح افواج کے سربراہ کے عہدے پر بدستور برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم فوج کی صف اول کی قیادت میں معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

فوج کے ادارے میں یہ تازہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وسط جولائی کو فوج کے ایک منحرف ٹولے نے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کی تھی جسے عوام نے سڑکوں پر نکل کر بری طرح ناکام بنا دیا تھا۔ بغاوت کی سازش کے بعد حکومت نے تمام اداروں میں باغی عناصر کا صفایا شروع کررکھا ہے۔ تطہیر کا عمل فوج میں بھی جاری ہے۔

ترک صدر کے ترجمان کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انقلاب کی ناکام کوشش کے جرم میں ملوث ہونے پر 1700 فوجیوں کو برطرف کردیا گیا ہے۔ برطرف فوجیوں پر 15 اور 16 جولائی کی درمیانی شب صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کی کوشش کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

فوج کی سپریم کونسل نے بری فوج کے سربراہ جنرل صالح زکی جولاق، نیول چیف رجب بولنت بوستانجی اور فضائیہ کے چیف جنرل عابدین اونال کو ان کے عہدوں پر برقرار رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

اناطولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق کونسل نے چیف آف جنرل اسٹاف کمیٹی کے سیکنڈ کمانڈر جنرل یشار گولر کر ’جندرمہ‘ کا سربراہ مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ جنرل اومیت دوندار کو چیف آف اسٹاف کمیٹی کا نائب سربراہ مقرر کیا ہے۔

جنرل حسن کوجوک آق یوز کی میزائل وایئرڈیفنس چیف کے طور پر تقرری عمل میں لائی گئی۔ جنرل موسیٰ افسافار کی فرسٹ آرمی کمانڈر، جنرل اسماعیل متین تمال سیکنڈ کمانڈر اور جنرل طاھر بکر اوگلو کو بری فوج کی تربیتی کور کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

سپریم ملٹری کونسل نے 16 جرنیلوں اور ایڈمرلز کی تقرری اور عہدوں میں ترقی کی بھی منظوری دی۔ ترقی پانے والوں میں 99 کرنل بھی شامل ہیں جنہیں جنرل اور ایڈمرلز بنایا گیا۔ 20 جنرلز اور ایڈمرلز کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کی گئی۔ سپریم کونسل نے ترقی کے منتظر 47 جرنیلوں کو ریٹائرڈ کرنے کا فیصلہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں