روس شام میں ممنوعہ ہتھیار استعمال کر رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" نے شامی حکومت اور روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپوزیشن کے زیرکنٹرول علاقوں پر حملوں میں وسیع پیمانے پر ممنوعہ کلسٹر ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے مئی کے اختتام سے اب تک 47 بار کلسٹر ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق کی ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

تنظیم کے مطابق ممنوعہ بموں کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

کلسٹر ہتھیاروں کو زمین سے توپ خانے اور میزائلوں کے ذریعے داغا جاتا ہے یا پھر انہیں طیاروں کے ذریعے گرایا جاتا ہے۔ یہ میزائل اور گرینیڈز بموں سے ملے جلتے چھوٹے مجموعوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض پھٹ جاتے ہیں اور بعض سالم رہ کر انفرادی بارودی سرنگ میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ یہ شہریوں بالخصوص بچوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہوتا ہے جو اس سے کھلونے کی طرح کھیلتے ہیں۔

ہیومن رائٹس کے مطابق روسی افواج نے شام میں 13 قسم کے ممنوعہ گولہ بارود کا استعمال کیا۔ تنظیم نے اپنی رپورٹ میں ادلب صوبے کے گاؤں ترمانین پر روسی "سوخوی" طیاروں کے حملے کا حوالہ دیا ہے جہاں کئی بار ایندھن کی فروخت کے بازار کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں شہری ، طبی معاونین اور چھوٹے بچے جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

ہیومن رائٹس واچ نے روس اور شامی حکومت سے ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے باور کرایا ہے کہ منتشر اور کلسٹر گولہ بارود براہ راست شکل میں ہلاکت کا سبب بنتے ہیں۔ اس کا نہ پھٹنے والا مواد بارودی سُرنگ میں تبدیل ہو کر کئی دہائیوں تک انسانی جانیں تلف کرتا رہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں