اپنے کام سے کام رکھیں: ایردوآن کا اہلِ مغرب کوانتباہ

امریکا اور یورپی یونین کے ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بارے میں مؤقف کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے یورپی یونین اور امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے کام سے کام رکھیں۔انھوں نے یہ انتباہ مغرب کے ترکی میں ناکام فوجی بغاوت میں ملوّث فوجیوں ،سرکاری ملازمین اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر اظہار تشویش کے ردعمل میں جاری کیا ہے۔

رجب ایردوآن صدارتی محل میں فوجی بغاوت کا راستہ روکنے کے دوران اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا:'' بعض لوگ ہمیں نصیحت کررہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ وہ مشوّش ہیں۔وہ اپنے کام سے کام رکھیں اور اپنے اعمال پر نظر کریں''۔

انھوں نے شکایت آمیز لہجے میں کہا کہ فوجی بغاوت کے بعد کسی سینیر مغربی عہدے دارنے ترکی کا دورہ نہیں کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ :''یورپی یونین یا مغرب سے کوئی ایک شخص بھی افسوس کا اظہار کرنے کے لیے نہیں آیا ہے اور پھر وہ کہتے ہیں کہ ایردوآن بہت زیادہ غصے میں آ گیا ہے''۔

صدر ایردوآن نے کہا:''جو ممالک اور لیڈر ترکی کی جمہوریت ،ہمارے لوگوں کی زندگیوں اور ان کے مستقبل کے بارے میں مشوّش نہیں ہیں جبکہ وہ بغاوت میں حصہ لینے والوں کی قسمت کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہیں،وہ ہمارے دوست نہیں ہوسکتے ہیں''۔

انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بغاوت میں حصہ لینے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔اس موقع پر انھوں نے جذبہ خیرسگالی کے تحت اپنی توہین کرنے والے افراد کے خلاف دائرکردہ مقدمات کو بھی واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ ترک حکام نے اس سال کے اوائل میں بتایا تھا کہ صدر کی توہین کے الزام میں دو ہزار سے زیادہ افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ فوجی بغاوت کے دوران 237 افراد مارے گئے تھے۔ان میں ہلاک ہونے والے باغی فوجیوں اور دوسرے اہلکاروں کی تعداد شامل نہیں ہے۔اس سے پہلے ترک حکومت نے باغیوں کی کارروائیوں اور ان کے ساتھ جھڑپوں میں مہلوکین کی تعداد 236 بتائی تھی۔

ترک حکام نے امریکا میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن پر اس ناکام بغاوت میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا ہے اور انھیں ہی تمام بغاوت کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا ہے۔اب ترکی امریکا سے انھیں حوالے کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔اس کے علاوہ ترکی میں زندگی کے تمام شعبوں اور خاص طور پر فوج میں ان کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں اور تطہیر کے اس عمل کے دوران گولن تحریک سے وابستہ فوجیوں،اعلیٰ عہدے داروں اور سرکاری ملازمین کو برطرف ،گرفتار یا معطل کیا جارہا ہے۔

15 جولائی کے شہداء کی یاد میں منعقدہ اسی تقریب میں ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ فوج میں گولن سے وابستہ تمام عناصر کا استیصال کردیا گیا ہے اور ناکام فوجی بغاوت کے بعد نصف جرنیلوں کو برطرف کردیا گیا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ''ہم نے فوج کو فتح اللہ گولن دہشت گرد تنظیم ( فیٹو) کے فوجیوں کا روپ دھارنے والے تمام عناصر سے پاک کردیا ہے۔ہم اپنی مسلح افواج اور اس ملک کو مزید مضبوط بنانے جارہے ہیں''۔واضح رہے کہ ترک حکومت ناکام فوجی بغاوت کے بعد فتح اللہ گولن کی خدمت تحریک کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں