تیونسی وزیراعظم حبیب الصید پر عدم اعتماد کی لٹکتی تلوار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تیونس کی پارلیمان میں وزیراعظم حبیب الصید کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کردی گئی ہے اور اس پر آج ہفتے کے روز رائے شماری ہورہی ہے۔

تیونس کے حکمراں اتحاد میں شامل چاروں جماعتیں اور حزب اختلاف وزیراعظم سے نالاں ہیں اور وہ انھیں ان کی خراب کارکردگی پر تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔حبیب الصید نے گذشتہ ہفتے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے سے انکار کردیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک منفی نتیجہ ہوگا۔اس لیے ان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد لائی جائے۔

انھوں نے ہفتے کے روز پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے اپنے ریکارڈ کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عہدے سے چمٹے ہوئے نہیں تھے۔حبیب الصید کو ملک کو درپیش اقتصادی اور سماجی مسائل حل نہ کرنے کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے اور حکمراں جماعت ندا تیونس میں اتھل پتھل اور صدر باجی قائد السبسی کے دباؤ کی وجہ سے ان کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔صدر ملک میں وسیع تر اقتصادی اصلاحات پر زوردے رہے ہیں۔

ٹیکنو کریٹ حبیب الصید تیونس کے سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کا بھی حصہ رہے تھے۔جنوری 2011ء میں ان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت میں انھیں وزارت داخلہ کا قلم دان سونپا گیا تھا۔ وہ بہاریہ انقلاب کے بعد انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والے اسلامی جماعت النہضہ کے عبوری وزیراعظم حمادی جبالی کے بھی سکیورٹی ایڈوائزر رہے تھے۔

تیونس میں 2014ء میں منعقدہ گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں سیکولر جماعت نداتیونس نے برتری حاصل کی تھی اور اس نے دوسو سترہ میں سے نواسی نشستیں حاصل کی تھیں۔النہضہ انہتر نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی تھی۔ ندا تیونس نے النہضہ اور دو چھوٹی لبرل جماعتوں کے ساتھ مل کر حبیب الصید کی سربراہی میں حکومت بنائی تھی۔اب اس اتحاد کو وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی منظوری کے لیے ڈیڑھ سے زیادہ ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 2011ء کے اوائل میں عرب بہاریہ انقلابات کے بعد تیونس ہی واحد ملک ہے جہاں کامیابی سے پارلیمانی جمہوریت معرض وجود میں آئی تھی اور پُرامن طور پر انتقال اقتدار کا عمل مکمل ہوا تھا لیکن سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک میں وسیع تر معاشی اصلاحات روبہ عمل نہیں لائی جاسکی ہیں جس کی وجہ سے معاشی مسائل حل ہوئے ہیں اور نہ انھیں انقلاب کے ثمرات نصیب ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں